وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا بھارت کیخلاف فیٹف جانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا بھارت کیخلاف فیٹف جانے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھارت کے خلاف فیٹف جانے کا اعلان کرتے ہوئے ویڈیو پیغام میں کہا، مودی، میں تمہاری طرح بزدل نہیں کہ رات کی تاریکی میں آں، ہم نعرہ لگا کے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان کا غلط بیانیہ پیش کر کے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالوانے کی کوشش کی۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھارت کے خلاف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس)میں جانے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دوٹوک پیغام دیا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالوانے کی کوشش کی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مودی،میں تمہیں پیغام دے رہا ہوں، ہم تمہاری طرح بزدل نہیں جو رات کی تاریکی میں آئیں۔ ہم نعرہ لگا کر آتے ہیں، دشمن کو بتا کر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرانے کے لیے وہ خود ثبوتوں کے ساتھ عالمی فورمز پر جائیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ انڈیا گرے لسٹ میں جانے کے لیے سو فیصد فٹ ہے۔
وزیراعلی نے مزید کہا کہ بھارت آج سے نہیں، بلکہ ہمیشہ سے پاکستان، خصوصا بلوچستان، گلگت بلتستان اور خطے میں دہشتگردی میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے دوران بھارت نے 100 سے زائد قونصل خانے کھول کر پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی باشندوں اور تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے تانے بانے بھی بھارت سے جا ملتے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پاکستانی حکومتیں، دفاعی ادارے، عوام اور پوری قوم ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں اور ہر محاذ پر بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں کی ابتک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں کی ابتک کی پیش رفت کا تفصیلی... سی ڈی اے کا سیدپور ماڈل ویلج میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، مقامی افراد کا شدید احتجاج کراچی: مسجد کے باہر فائرنگ، سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق آپریشن مہادیو سے متعلق کوئی بھی بھارتی دعویٰ پاکستان کیلیے اہمیت نہیں رکھتا، دفتر خارجہ پاک-چین دوستی وقت کی ہر کسوٹی پر پوری اتری ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کی سزا معطل
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین علی امین گنڈاپور نے انہوں نے کہا کہ جانے کا اعلان کہا کہ بھارت کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔