چاول کی پیداوار میں نئی ایجاد سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2025ء) چاول کی پیداوار میں نئی ایجاد سامنے آ گئی،پنجاب یونیورسٹی و چین کی وہان یونیورسٹی نے نیاہائبرڈ چاول کابیج تیار کر لیا۔ پنجاب یونیورسٹی ذرائع کے مطابق نئے بیج سے چاول کی فی ایکڑپیداوار3گنابڑھ کر140من فی ایکڑہوجائے گی،نیاہائبرڈچاول پاکستان میں تیار ہونے والا پہلاہانگ لیان قسم کاہائبرڈچاول ہے،پنجاب یونیورسٹی ووہان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ملکرہائبرڈچاول کی نئی اقسام ایجادکیں۔
(جاری ہے)
چیئرمین شعبہ پلانٹ بریڈنگ ڈاکٹرمحمداشفاق اورڈاکٹرمحمدعلی کلاسراتحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے،وہان یونیورسٹی چین سے پروفیسررنشان ژو، ڈاکٹر ژیانٹنگ وو، شو و دیگر تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے،تکنیکی مراحل کی تکمیل کے بعدپاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل نے نئے ہائبرڈچاول کی منظوری دے دی۔ ڈاکٹرمحمداشفاق کا کہنا ہے کہ نئے چاول کاکامیاب تجربہ پاکستان کے 4صوبوں کے مختلف شہروں میں کیاگیا، نئے ہائبرڈ چاول کی تیاری 10 سالہ تحقیق اور تجربے کا نتیجہ ہے،نیاہائبرڈچاول بیکٹیریائی بیماریوں کے خلاف مزاحمتی صلاحیت رکھتا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چاول کی
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔