وزارت داخلہ کا عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
وزارت داخلہ کا عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق بیان سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی عمران خان کے بہن علیمہ خان کی جانب سے ان کے بیٹوں کی ویزے کے لیے درخواست کے بیان پر وفاقی وزارت داخلہ نے بھی ردعمل دے دیا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی کوئی ویزا درخواست وزارت داخلہ میں زیر غور نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فیملی ویزا یا کسی بھی قسم کا ویزا وزارت داخلہ جاری نہیں کرتی اور وزارت داخلہ کے بارے میں دعوی خلاف حقیقت ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس نوعیت کا ویزا صرف ہائی کمیشن اور وزارت خارجہ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
قبل ازیں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے اور ویزے کا عمل وزارت داخلہ میں زیر غور ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجولائی کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے بعد ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تبادلے و تقرریاں جولائی کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے بعد ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تبادلے و تقرریاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے ویزے کی درخواست دیدی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب، جماعت اسلامی کا مارچ ختم کرنے کا اعلان التجا کرتے ہیں فیصلہ ساز ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہم ملک کے خیر خواہ ہیں: جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے ویزا کیلئے درخواست نہیں دی: پاکستانی ہائی کمیشن اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آل پارٹیز کانفرنس اختتام پذیررہنمائوں کی پریس کانفرنسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان کے بیٹوں وزارت داخلہ کے بیٹوں کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔