دی ہنڈریڈ لیگ: محمد عامر اور عماد وسیم کا ناردرن سپرچارجرز کیساتھ معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
کراچی:
پاکستانی کرکٹرز محمد عامر اور عماد وسیم نے منگل کے روز دی ہنڈریڈ 2025 سیزن کے لیے ناردرن سپرچارجرز کے ساتھ معاہدے کر لیے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں پاکستانی کرکٹرز کو بین ڈورشوئس اور مچل سینٹنر کی جگہ بطور متبادل شامل کیا گیا ہے۔
اس سے قبل یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ٹورنامنٹ میں شامل بیشتر ٹیموں کے مالکان بھارتی ہونے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو لیگ سے باہر رکھا جائے گا۔
ناردرن سپرچارجرز یکم اکتوبر سے بھارتی میڈیا گروپ ’سن‘ کے زیرانتظام آجائیں گے جس کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر سوالات اٹھے تھے۔
سال کے آغاز میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مارچ میں ہونے والے ڈرافٹ میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کا انتخاب نہیں کیا گیا جو کہ پچھلے سیزنز کے مقابلے میں حیران کن تھا۔
اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی گئیں کہ چار فرنچائزز کے مالکان بھارت سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دو کی ملکیت بھارتی نژاد امریکیوں کے پاس ہے اور اسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ہوگا۔
تاہم انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ان خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ سے باہر نہیں رکھا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ڈرافٹ کے وقت پاکستان ٹیم کی ویسٹ انڈیز کے دورے اور متحدہ عرب امارات میں سہ ملکی سیریز کے باعث عدم دستیابی، حالیہ ٹی ٹوئنٹی پرفارمنس میں کمی اور پچھلے سال شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کی آخری وقت میں دستبرداری بھی اہم وجوہات تھیں۔
عامر اور عماد کی شمولیت سے سپرچارجرز کی ٹیم مضبوط ہو گئی ہے، جس میں انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین اسٹوکس بھی شامل ہیں، حالانکہ اسٹوکس نے کندھے کی سرجری کے باعث اس سیزن میں دی ہنڈریڈ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔