پیرس میں50 سال سے اخبار بیچنے والے پاکستانی کے لیے اعلیٰ ایوارڈ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 August, 2025 سب نیوز

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں نصف صدی سے اخبار بیچنے والے پاکستانی شخص کو فرانس کا اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 73 سالہ پاکستانی شہری علی اکبر کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ 1973 سے شہر کے فیشن ایبل علاقے لیٹن کوارٹر کی سڑکوں، ریستورانوں اور دوسرے مقامات پر اخبارات فروخت کرتے آ رہے ہیں۔
ٹی وی اور انٹرنیٹ پر آن لائن ایڈیشن آنے کے بعد جب اخبارات کی مانگ میں کمی ہوئی تو انہوں نے فروخت کے لیے مزاح اور بعض دوسرے ایسے اقدامات سے کام لیا جن کی بدولت لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
ستمبر میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں علی اکبر کو ’دی نیشنل آرڈر آف میرٹ‘ سے نوازیں گے اور یہ ایک ایسا انعام ہے جو حکومت کی جانب سے ملک کے لیے سول یا فوجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔
ٹی وی کی آمد کے بعد 70 کی دہائی میں اخبارات کی فروخت کا کام ایک ایسا پیشہ تھا جو دم توڑ رہا تھا کیونکہ اس کی بدولت خبریں لوگوں تک جلدی پہنچ جاتی تھیں جبکہ انٹرنیٹ آنے کے بعد اس میں تیزی پیدا ہوئی۔
تاہم علی اکبر شہر کے وہ آخری ہاکر ہیں جو آج تک اخبار بیچنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے لیے انہوں نے نیا انداز اپنایا ہوا ہے جس میں مسلسل لگن کے علاوہ ان کی مخصوص مسکراہٹ، مزاح اور بعض دوسرے اقدامات شامل ہیں جن سے وہ گاہکوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور اخبارات کی فروخت کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’مجھے اخبارات کے لمس سے محبت ہے، میں ٹیبلٹس اور اس قسم کی دوسری اشیا کو زیادہ پسند نہیں کرتا مگر مجھے پڑھنا اچھا لگتا ہے، وہ کتاب کی شکل میں ہو یا پھر کسی شائع شدہ شکل میں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں لکھے ہوئے مواد کو سکرین پر پڑھنا پسند نہیں ہے۔
انہوں نے اخبارات کی فروخت کے حوالے سے بتایا کہ ’میرے پاس اس کے لیے ایک خاص طریقہ ہے، میں اس دوران مزاحیہ جملے بولتا رہتا ہوں جس پر لوگ ہنستے ہیں اور میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’میں لوگوں کے دلوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہوں، جیبوں میں نہیں۔‘
تاہم دوسری جانب ڈیجیٹل ذرائع کی مقبولیت کے بعد ان کے کام کی رفتار میں کمی آئی ہے جس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں۔
علی اکبر کہتے ہیں کہ ’اب کام کچھ مشکل ہو گیا ہے۔ میں آٹھ گھنٹے میں صرف 20 تک اخبار ہی بیچ پاتا ہوں کیونکہ اب سب کچھ ڈیجیٹل ہو گیا اور کم لوگ ہی اخبار خریدتے ہیں۔‘
ان مشکلا ت کے باوجود بھی علی اکبر عزم رکھتے ہیں کہ جب تک ان کی صحت اجازت دے گی وہ اخبار بیچتے رہیں گے۔
وہ یہ خدمات ایک ایسے علاقے میں انجام دیتے ہیں جہاں بڑی بڑی فیشن بوتیکس اور کھانے کے سامان کی دکانوں نے بڑی حد تک کتابوں کی دکانوں کی جگہ لے لی ہے جنہوں نے 20ویں صدی کے بڑے فلسفی پیدا کرنے میں مدد دی تھی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علی اکبر ان چیزوں میں سے ایک ہیں جو لیٹن کوارٹر کی اصل شکل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ان کی ایک گاہک میری لورے کیریئرے کا کہنا ہے کہ ’علی اکبر ایک ادارہ ہیں، میں اور میرے کچھ دوست ان سے روزانہ اخبار خریدتے ہیں، ہم ان کے ساتھ کبھی کبھی کافی بھی پیتے ہیں اور لنچ بھی کرتے ہیں۔‘

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک گیر احتجاج کی کال، پی ٹی آئی کا ریحانہ ڈار سمیت کئی کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ ملک گیر احتجاج کی کال، پی ٹی آئی کا ریحانہ ڈار سمیت کئی کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ پارلیمنٹ ہاؤس پر بھاری نفری تعینات، قیدی وینز اور اینٹی رائٹ دستے پہنچ گئے، اہم گرفتاریاں متوقع پاک چین دوستی افلاک سے بھی وسیع اور بلند ہو چکی ہے ، وفاقی وزیر احسن اقبال وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26 ویں ترمیم پر مذاکرات کی دعوت دیدی عمران خان کی رہائی کو یقینی بناکر دم لیں گے: بیرسٹر گوہر عدالتیں کرپشن کا حصہ ہیں، کون سا جج کرپٹ ہے، اچھے طریقے سے جانتا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اخبار بیچنے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا