اسلام آباد:

وفاقی دارالحکومت میں یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ہونے والے احتجاج میں مقررین نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت آزادکروانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ نریندر مودی اپنے ملک میں بہت کمزور ہے اور دنیا بھر میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہے لہٰذا پاکستان کو اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ مزید قوت کے ساتھ رکھناچاہیے۔

فرینڈز آف کشمیر کے زیراہتمام کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اقدامات کی مذمت کے لیے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر اور سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کشمیر کا مسلہ کوئی زمین کا مسئلہ نہیں، یہ زندگی اور عقیدے کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسلہ تب حل ہو گا جب پاکستان کی قوم عزم کا اعادہ کرے اور پاکستان یہ فیصلہ کرے کہ ہم کشمیر کو آزاد کروائیں گے، ہم کشمیر کے شہدا کو کیسے بھلا سکتے ہیں، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے ساری زندگی جیلون میں گزاری۔

ان کا کہنا تھا کہ 1991 کے بعد دنیا میں 15 ممالک آزاد ہوئے، سلامتی کونسل نے کشمیر کی آزادی کے لیے 23 قراردادیں منظور کیں، فلسطین کے حق میں ایک ہزار سے زائد قراردادیں منظور ہوئیں۔

سراج الحق نے کہا کہ آزادی صرف قراردادوں کے بدلے نہیں ملتی، آزادی کی جدوجہد ہو تو ثمر اللہ دیتا ہے، اس کے لیے ہمیں خود قربانی دینی ہو گی اور اگر یہ ہماری زندگی کا مسئلہ ہے تو ہمیں گھڑا ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد لازوال ہے،کشمیری قوم اور کتنی قربانیاں دے، میں کشمیریوں کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں۔

چئیرپرسن فرینڈز آف کشمیر غزالہ حبیب نے کہا کہ کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے، آج کشمیر کے سینکڑوں نوجوان اور خواتین جیلوں میں قید ہیں یہ لوگ اس لیے قید ہیں کیونکہ یہ آزادی مانگ رہے ہیں۔

غزالہ حبیب نے کہا کہ کشمیر میں ڈریکونین قوانین نافذ ہیں، ان قوانین کے تحت کسی بھی وقت بھارتی فوجی کسی بھی کشمیری کے گھر میں گھس سکتا ہے، آج آسیہ اندرابی، یاسین ملک اور دیگر آزادی کی آواز بلند کرنے پر جیلوں میں قید ہیں۔

سابق سفیر اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود نے کہا کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ کے دوران اہل پاکستان اور کشمیر کو فتح مبین کی مبارک باد دیتا ہوں، اللہ تعالی نے پاک افواج اور فضائیہ کو کامیابی دی اور اس کے بعد ہم نے سفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی، ہماری کامیابی کی دنیا نے توثیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کامسئلہ حل نہ ہوا تو جنگ منڈلاتی رہے گی، مئی کی جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے تین نکات پر بات کی اور کہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مدد کی جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق سینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ کشمیرکمیٹی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کرنی چاہیے اور ان معاملات کو حل کرے۔

چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم یوم استحصال منا رہے ہیں، 6 سال قبل مودی سرکار نے غیر قانونی طور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں 370 اور 35A کو ختم کردیا، 10 مئی کے بعد نئے پاکستان نے جنم لیا ہے، 10 مئی کے سورج نے کشمیریوں کی قربانیوں اور ان کی آوازوں کو انٹرنیشنلائز کر دیا ہے۔

رانا قاسم نون نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کو کسی صورت پس پشت نہیں ڈالیں گے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کو سپورٹ کیا ہے، ہماری گلوبل لیڈر شپ سے درخواست ہے کہ مودی سرکار کے بہیمانہ سلوک سے کشمیریوں کو بچایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کشمیر کے کشمیر کو کے بعد کے لیے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت