ایشیائی کرکٹ کے حقوق، پاکستان میں ڈیڑھ ارب کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کراچی:
پاکستان میں ایشین کرکٹ کے میڈیا رائٹس 5.2 ملین ڈالرز (تقریبا ڈیڑھ ارب روپے ) میں سرکاری ٹی وی کو فروخت کر دیے گئے، ان میں 2 مینز ایشیا کپ شامل ہیں، 12ملین ڈالر کی ڈیمانڈ کرنے والا سونی انڈیا دیگر چینلز سے بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کا انعقاد 9 سے 28 ستمبر تک یو اے ای میں ہوگا،اس میں 19 میچز کھیلے جائیں گے، فائنل میں رسائی کی صورت میں 3 پاک بھارت مقابلے متوقع ہیں، گزشتہ برس ایشین کرکٹ کونسل کے 2024 سے2031 تک 8 سالہ میڈیا رائٹس170 ملین ڈالر (تقریباً 47ارب26 کروڑ پاکستانی روپے) میں سونی انڈیا کو فروخت کیے گئے تھے۔
اس میں مینز، ویمنز کے 4،4 ایشیا کپ اور ایمرجنگ سمیت 119 میچز شامل ہیں، بھارتی براڈ کاسٹر نے 2 ایشیا کپ کیلیے پاکستان میں 12 ملین ڈالر طلب کیے، دوڑ میں موجود تینوں میں سے کوئی بھی چینل اتنی بڑی رقم دینے پرآمادہ نہیں تھا۔
ان کے مطابق مارکیٹ ان دنوں اتنی بڑی نہیں کہ بھاری سرمایہ کاری پر منافع کما سکیں، چینلز میں کنسورشیم بنانے پر بھی بات ہوئی تھی، البتہ گزشتہ روز بڑی پیش رفت سامنے آئی جب سرکاری ٹیلی ویژن نے 2025 سے 2027 تک کے ایشیائی کرکٹ براڈ کاسٹنگ رائٹس 5.
سونی کی 2 نجی چینلز سے بھی بدستور بات چیت جاری ہے جو مل کر رائٹس خرید سکتے ہیں، بھارتی براڈ کاسٹر 5 ملین ڈالر تک حاصل کرنا چاہتا ہے، پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کا معاہدہ پہلے ہی ہو چکا۔
یاد رہے کہ اے سی سی میڈیا رائٹس میں پاکستان سے شیئر تقریباً25 فیصد (42.5 ملین ڈالر ) تک ہوتا ہے، ڈیجیٹل رائٹس الگ ہیں، بیشتر رقم (تقریبا 65 فیصد) بھارت سے آتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں ملین ڈالر ایشیا کپ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔