کرک میں دہشتگردوں کا ایف سی کی گاڑی پر حملہ، 3 اہلکار اور ڈرائیور شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ایف سی اہلکار فیلڈ سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے اور گاڑی میں سوار ہو کر روانہ تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے اچانک حملہ کردیا، شدید فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں کے دہشت گردوں نے ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 اہلکار اور ڈرائیور شہید ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق کرک کےعلاقے امان کوٹ توے میں تھانہ گرگری کی حدود میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ایف سی اہلکار فیلڈ سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے اور گاڑی میں سوار ہو کر روانہ تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے اچانک حملہ کردیا، شدید فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرک میں ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنے والے 3 اہلکاروں اور ڈرائیور کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کی مذمت کی اور متعلقہ حکام کو حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لئے کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایف سی اہلکار کی گاڑی پر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک