امن چاہتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف ہم سب متحد ہیں، جرگہ عمائدین کی وزیراعلیٰ سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی میزبانی میں امن و امان سے متعلق علاقائی جرگوں کے جاری سلسلے کا تیسرا مشاورتی جرگہ بدھ کے روز وزیر اعلی ہاوس پشاور میں منعقد ہوا۔
جرگے میں ضلع شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے علاوہ ٹرائبل سب ڈیژنز وزیر، بیٹانی، درازندہ اور جنڈولہ کے قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اورمتعلقہ ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
وزیر اعلی کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سنیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام بھی جرگے میں شریک تھے۔ جرگے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور آگے کے لائحہ عمل بارے متفقہ سفارشات پیش کی گئیں۔
شرکا نے امن و امان کے سلسلے میں قبائلی عمائدین کے جرگے منعقد کرنے پر وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن ہماری بنیادی ضرورت ہے، ہم امن چاہتے ہیں اور دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔
جرگے میں سفارش کی گئی کہ خطے میں پائیدار امن کے سلسلے میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں، قبائلی عمائدین اور سیاسی قائدین پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے۔
شرکا کا کہنا تھا کہ ہم ترقی چاہتے ہیں اور ترقی امن و امان سے جڑی ہے۔ جب تک خطے میں امن و امان کی صورتحال مستحکم نہیں ہو جاتی، ترقی اور خوشحالی کی کوئی بھی کاوش دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔