Express News:
2026-06-03@08:13:08 GMT

انٹرلاکن میں ایک دن

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن سوئٹزر لینڈ کی ’’مین اٹریکشن‘‘ ہے سوئس آنے والے ننانوے فیصد لوگ انٹر لاکن ضرور جاتے ہیں‘ یہ شہر تھن اور برنز (Brienz) دو جھیلوں کے درمیان واقع ہے اور اس مناسبت سے انٹر لاکن یعنی ’’دو جھیلوں کے درمیان‘‘ کہلاتا ہے‘ دونوں جھیلوں کو ایری (Aare) نام کا دریا آپس میں ملاتا ہے‘ دریا کا پانی تیز اور ٹھنڈا یخ ہوتا ہے۔

 اس کی وجہ الپس کے پہاڑی گلیشیئرز ہیں‘ یہ دریا اور دونوں جھیلیں گلیشیئر سے کشید ہوتی ہیں‘ انٹر لاکن کی چاروں سائیڈز پر اونچے‘ سبز اور برف پوش پہاڑ ہیں‘ پہاڑی جھرنے اور آب شاریں بھی وادی میں اترتے رہتے ہیں اور یہ سب مل کرمنظر کو جاذب اور مسحور کن بنا دیتے ہیں‘ میں درجن سے زیادہ مرتبہ انٹر لاکن جا چکا ہوں‘ میرا خاندان بھی اس شہر کی فضا کو متعدد مرتبہ انجوائے کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارا دل نہیں بھرا اور ہم نے پورا دن اس طلسماتی شہر میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔

مورج سے انٹرلاکن کا فاصلہ اڑھائی گھنٹے تھا لیکن ہمیں راستے میں بلوزی (Blause) کا بورڈ نظرآیا اور ہم نے پارکنگ میں گاڑی روک لی‘ بلوزی رکنے کا آئیڈیا دانش نے دیا تھا‘ یہ فرنے والٹیئر کے راجپوت ریستوران کے مالک شہزاد صاحب کے کزن ہیں‘ لاہور کے رہنے والے ہیں‘ فرانس آئے اور یہاں بس گئے‘ شہزاد صاحب کے ریستوران میں کام کرتے ہیں‘ شہزاد صاحب کے والد1980کی دہائی میں فرانس آئے‘ فرنے میں ریستوران کھولا اور اربوں روپے کمائے‘ یہ ریستوران اب شہزاد صاحب چلا رہے ہیں اور کمال چلا رہے ہیں‘ یہ کھانا بنانا اور سرو کرنا دونوں جانتے ہیں‘ میری چند سال قبل ان سے حادثاتی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد ان سے دوستی ہو گئی‘ دانش ان کے خالہ زاد ہیں‘ سفر کے شوقین ہیں لہٰذا انھوں نے ہمیں لیک بلوزی کا مشورہ دیا‘ ہم بلوزی کے مقام پر پہنچے تو پتا چلا جھیل کی زیارت کے لیے باقاعدہ ٹکٹ ہے۔

 آپ کو جھیل تک جانے کے لیے 12 فرانک (پانچ ہزار روپے) کا ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے‘ یہ میری زندگی کی پہلی جھیل تھی جسے دیکھنے کے لیے ٹکٹ ادا کرنا پڑا‘ بہرحال ہم ٹکٹ خرید کر ایک جنگلی پگڈنڈی پر چل پڑے‘ گھنے درختوں کے درمیان غیر متاثر کن چھوٹی سی پگڈنڈی تھی‘ ہم مایوسی کے عالم میں اس پر چل پڑے لیکن تیسرے موڑ کے بعد ہم ساقط ہو کر رہ گئے‘ ہمارے سامنے پیالہ نما سبز جھیل تھی‘ پانی کرسٹل کی طرح صاف تھا لیکن اس کی تہہ میں کیوں کہ کائی جمی تھی لہٰذا اس کی وجہ سے اس کا رنگ زمرد کی طرح سبز تھا‘ سبز پیالے کے چاروں طرف اونچے درخت تھے‘ وہ منظر اور وہ ماحول حقیقتاً دل کشا تھا‘ وہاں ایک روحانی سکون بھی تھا‘ جھیل کے گرد چھوٹا ساہوٹل‘ ایک ریستوران اور دو صاف ستھری کافی شاپس تھیں‘ اس دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

 ہم نے اس بارش میں کشتی کی سیر کی‘ کشتی کے کپتان نے بتایا یہ جھیل دس ہزار سال پرانی ہے‘ پانی میں پڑے درختوں کے تنے بھی جوں کے توں ہیں‘ سیاہ مچھلیاں بھی قدیم مچھلیوں کی نسل ہیں اور یہ کبھی اس وادی سے باہر نہیں گئیں‘ سبز پہاڑوں کے درمیان سبز جھیل اور اس کے درمیان کشتی کا سفر یہ سب کچھ ذہن میں نقش ہو گیا‘ ہم جھیل کا چکر لگانے کے بعد پہاڑ کی طرف نکل گئے وہاں ایک ایسا شوریدہ دریا تھا جو جھیل سے نظر آتا تھا اور نہ اس کا شور سنائی دیتا تھا‘ یہ بات عجیب تھی کیوں کہ وہ جھیل سے بمشکل 50میٹر کے فاصلے پر تھا لیکن وہاں سے اس کے وجود کا اندازہ تک نہیںہوتا تھا لیکن ہم جوں ہی پل پر پہنچے تو دریا کے شور نے کان بند کر دیے‘ دریا کے ساتھ ساتھ ٹریک تھا‘ ہم نے اس پر واک شروع کر دی‘ ہمارے بائیں ہاتھ دریا تھا اور دائیں جانب پہاڑ‘ پہاڑ سے جھرنے اور ندیاں دریا میں گر رہی تھیں۔

 درمیان میں دو آب شاریں بھی آئیں‘ دریا کے ساتھ ساتھ کسانوں کے باڑے اور گائے تھیں‘ آپ اگر کبھی سوئٹزر لینڈ جائیں تو ان باڑوں سے کچا دودھ خرید کرضرور پئیں‘ پوری زندگی آپ کے منہ سے خوشبو آتی رہے گی وہاں کسانوں کے کھیت اور گھر بھی تھے‘ ہر گھر اور کھیت تک بجلی اور سڑک تھی‘ گھر بھی بہت خوب صورت اور سلیقے سے بنے تھے‘ میں جب بھی یورپ آتا ہوں تو مجھے بڑے شہروں کے علاوہ کسی قصبے میں گلیوں میں لوگ نظر نہیں آتے‘ آپ پورے قصبے یا گاؤں میں گھوم لیں آپ کو دور دور تک کوئی بندہ بشر نظر نہیں آئے گا‘ کیوں؟ کیوں کہ لوگ گلیوں میں گھومنا پسند نہیں کرتے‘ یہ دن کے وقت دفتر یا کام کی جگہ پر ہوتے ہیں اور شام کے وقت گھروں کے اندر۔ یہ بلاوجہ باہر نہیں نکلتے جب کہ اس کے مقابلے میں آپ پاکستان کے کسی بھی شہر یا گاؤں میں چلے جائیں آپ کو دور دور تک سر ہی سر دکھائی دیں گے‘ لوگ لوگوں کے ساتھ گھسیٹ کر چل رہے ہوں گے‘ ہمارے لوگ گلیوں میں کیا کر تے رہتے ہیں میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا‘ شاید گلیوں میں گھومنا اور دوسروں کو گھورنا ہمارا قومی مشغلہ ہے۔

 بلوزی کے گاؤں اور کسانوں کے ڈیروں پر بھی ہمیں کوئی شخص نظر نہیں آیا تاہم ان کی گاڑیاں‘ ٹریکٹرز اور کھیتی باڑی کے آلات ترتیب کے ساتھ پڑے تھے‘ ہمیں راستے میں پہاڑ کے ساتھ ایک قبر بھی ملی‘ اس پر تازہ تازہ پھول رکھے تھے‘ وہ کون تھا اور اس ویران علاقے میں اس کی قبر کیسے بن گئی؟ ہم یہ نہیں جان سکے‘ ہمیں راستے میں ایک ویران سا پل ملا‘ ہم نے وہ کراس کیا اور دوسری طرف آ گئے وہاں سے گھوم کر ہم سڑک پر آئے اور وہاں سے چھوٹا سا چکر لگا کر دوبارہ جھیل پر آ گئے‘ میری فیملی وہاں میرا انتظار کر رہی تھی‘ جھیل کی سائیڈ پر لکڑی کا پل اور دو آبی غار تھے‘ ہمیں پتا چلا جھیل کا پانی منرل واٹر ہے اور یہ بہت مہنگا بکتا ہے‘ غار میں منرل واٹر کا پلانٹ تھا‘ میں نے کافی شاپ سے کافی لی اور جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر کافی انجوائے کرنے لگا۔

ہماری اگلی منزل انٹر لاکن تھی‘ ہم نے راستے میں تھن لیک کے کنارے لنچ کیا‘ اس کنارے پر صرف ایک ریستوران تھا‘ پوری جھیل پر اس کی مناپلی تھی‘ انٹرلاکن بنیادی طور پر سوئٹزر لینڈ کا مال روڈ ہے‘ سوئس جانے والے تمام سیاح اس کی زیارت ضرور کرتے ہیں‘ اس شہر کی چار اٹریکشنز ہیں‘ پہلی اٹریکشن یہ خود ہے‘ یہ دو جھیلوں کے درمیان واقع ہے‘ جھیلوں کو سرد دریا آپس میں ملاتا ہے‘ اس کا پانی ٹھنڈا اور تیز ہوتا ہے اور یہ شور بھی کرتا ہے‘ دریا کے ساتھ ساتھ لکڑی کے خوب صورت ہٹس اور گھر ہیں جب کہ قصبے کے درمیان کافی شاپس‘ ریستوران‘ بارز‘ ہوٹلز اور شاپنگ سینٹرز ہیں جہاں دن رات رش رہتا ہے‘ ٹاؤن کے چاروں طرف سبز پہاڑ ہیں‘ چوٹیوں سے پیرا گلائیڈنگ ہوتی ہے اور سارا شہر یہ تماشا دیکھتا ہے‘ دوسری اٹریکشن یون فرو (Jungfraujoch) یا ٹاپ آف دی یورپ ہے۔

 یہ الپس کا بلند ترین گلیشیئر ہے‘اس پر گرمیوں میں بھی برف گرتی رہتی ہے‘ انٹر لاکن سے ٹرین اوپر جاتی ہے‘ سوئس لوگوں نے جب ہندوستان کے لوگ 1857ء کی جنگ آزادی لڑ رہے تھے عین اس وقت پہاڑ کو درمیان سے کاٹ کر اس میں ساڑھے آٹھ کلو میٹر کی ٹنل بنائی اور اس میں ٹرین چلا دی‘ یہ غار کے اندر نیچے سے اوپر کی طرف چلتی ہے اور یہ کسی معجزے سے کم نہیں‘ یہ ٹرین سیدھی گلیشیئر پر پہنچ کر رکتی ہے‘ تیسری اٹریکشن گرینڈل والڈ(Grindel Wald) کا قصبہ ہے‘ یہ سوئٹزر لینڈ کا خوب صورت ترین ٹاؤن ہے‘ آپ نے یہ دنیا بھر کی فلموں میں دیکھا ہو گا‘ یہ بھی بلندی پر پہاڑوں کے درمیان ہے اور وہاں باقاعدہ ٹرین جاتی ہے‘ قصبے سے دائیں بائیں وادی اور جھیلیں دکھائی دیتی ہیں اور چوتھی اٹریکشن لاؤٹر برونین(Lauterbrunnen) کا قصبہ ہے‘ یہ اپنی آب شار کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

 پہاڑ کی انتہائی بلندی سے پانی کی دھار وادی میں گرتی ہے اور دیکھنے والوں کا دل کھینچ لیتی ہے‘ ہمیں ان دونوں قصبوں میں جانے کا موقع ملا‘ اس دن بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود آب شار پر بہت رش تھا‘ سیاح چھتریاں لے کر رین کوٹ پہن کر آب بارش کی زیارت کر رہے تھے‘ آب شار کے ساتھ سیڑھیاں اوپر تک جاتی ہیں‘ لوگ پانچ سو سیڑھیاں چڑھ کر آب شار کے پلیٹ فارم تک پہنچتے ہیں وہاں پانی براہ راست گرتا ہے اور دور دور تک چھینٹے اڑاتا ہے‘ گرینڈل والڈ میں تیز بارش تھی‘ ہم وہاں پہنچے لیکن بارش کی وجہ سے قصبے کو انجوائے نہیں کر سکے ‘ہم بارش کی وجہ سے یون فرو بھی نہیں جا سکے کیوں کہ بارش میں گلیشیئر نظر نہیںآتا اور خنکی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

سوئٹزر لینڈ بہت خوب صورت ہے‘ یہ خوب صورتی سوئس لوگوں اور سسٹم کی دین ہے‘ یہ خطہ 1960 تک بہت پس ماندہ اورگندہ تھا لیکن پھر حکومت اور عوام نے اسے جنت بنانے کا فیصلہ کیا اور کمال کر دیا‘ آپ پورا ملک پھر کر دیکھ لیں آپ کو کسی جگہ تنکا اور ٹشو پیپر کا ٹکڑا نہیں ملے گا‘ عوام کچرا بھی باقاعدہ بیگ میں بند کر کے کچرا گھروں میں پھینکتے ہیں‘ کچرے کے بیگز دکانوں سے خریدے جاتے ہیں اور ان کا اسٹینڈرڈ بھی حکومت طے کرتی ہے‘ اس بیگ کے علاوہ کوڑا پھینکنے پر ٹھیک ٹھاک جرمانہ ہے‘ غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر بھی بھاری جرمانہ ہوتا ہے‘ فوجی ٹریننگ لازمی ہے‘ اٹھارہ سال کے تمام نوجوانوں کو باقاعدہ اٹھارہ ماہ فوجی ٹریننگ کرنا پڑتی ہے‘ حکومت واپسی پر انھیں وردی اور ہتھیار دے دیتی ہے‘ یہ انھیں گھر لے جاتے ہیں‘ اس کے بعد پوری زندگی یہ لوگ ہر سال تین ہفتوں کی ٹریننگ کرتے ہیں‘ آپ کسی بھی موسم میں سوئٹزر لینڈ جائیں آپ کو مختلف اسٹیشنوں پر یونیفارم میں فوجی نظر آئیں گے‘ یہ ٹریننگ کے لیے جانے والے نوجوان ہوں گے لہٰذا پورا سوئٹزر لینڈ فوجی ہے اور ٹرینڈ ہے‘ سوئس کا نظام تعلیم بھی مختلف ہے‘کیسے؟ یہ میں آپ کو اگلے کالم میں گوش گزار کروں گا۔

نوٹ: ستمبرمیں ہمارا گروپ ازبکستان جا رہا ہے‘ آپ اس گروپ کا حصہ بننے کے لیے ان نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

+92 331 3334562, +92 333 6685321,+92 331 5637981

+92 326 8330973

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوئٹزر لینڈ گلیوں میں راستے میں کے درمیان انٹر لاکن کی وجہ سے نظر نہیں تھا لیکن دریا کے کیوں کہ رہی تھی ہیں اور کے ساتھ اور دو اور یہ اور اس ہے اور کے بعد کے لیے

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی