WE News:
2026-07-24@11:38:15 GMT

پاکستان کا عالمی قد کاٹھ

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

افراد کی طرح ممالک کے بھی قد کاٹھ ہوتے ہیں۔ جو کچھ اہم شعبوں کسی بھی ملک کی پیش رفت یا قدرتی طور پر موجود کچھ امتیازات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان میں جغرافیہ، وسائل، آبادی، ٹیکنالوجی، دفاعی صلاحیت، سفارتی اثر و رسوخ اور ثقافتی اثراندازی کی صلاحیت شامل ہیں۔ آئیے ان حوالوں سے پاکستان کی صورتحال سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا محلِ وقوع انتہائی اسٹریٹیجک ہے۔ یہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔  صرف یہی نہیں بلکہ یہ ابھرتے ہوئے ورلڈ لیڈر چائنا کا سب سے محفوظ اور قریب ترین گیٹ وے بھی ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت بڑھانے میں انقلاب کے بعد والے ایران کا بھی کلیدی رول ہے۔ عالمی سیاست میں جس کے بے لچک مؤقف نے صورتحال ہمارے حق میں کر رکھی ہے اور لینڈ لاک سینٹرل ایشیا تک زمینی راستہ ہمارا ہی دستیاب ہے۔ بات صرف سینٹرل ایشیا تک نہیں بلکہ روس کو بھی تو راستہ درکار ہے۔ یوں ہماری یہ اہمیت ون وے نہیں بلکہ دو طرفہ ٹریفک کی ہے۔ بالخصوص روس کے لیے ہماری بندرگاہوں کی اہمیت تو بہت قدیمی معلوم ہے۔ گزرے وقتوں میں سوویت ایمپائر نے بھی اس تک رسائی کی خون ریز کوشش کی تھی۔ سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ روس کو تو ایران جیسے بااعتماد دوست کی بندرگاہیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ وہ ہماری بندرگاہوں میں دلچسپی کیوں لینے لگا؟ تو ایسا ہے کہ ایرانی بندرگاہیں ہر وقت خطرے سے دوچار بندرگاہیں ہیں۔ یوں محفوظ اور بلا تعطل سروسز صرف  ہم ہی فراہم کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں روس نے لاہور تک ریلوے لائن لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اس کی ہماری بندرگاہوں سے استفادے کی طرف ہی پیش رفت ہے۔ اسی طرح سی پیک کی صورت ہماری چین کے لیے اہمیت معلوم حقیقت ہے۔ اور خیر سے ڈونلڈ ٹرمپ کی رال بھی آج کل جس طرح پاکستان پر ٹپک رہی ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ اس اہم ترین راستے کو امریکا اپنی چوکی کے قیام کے  بغیر چھوڑ سکتا ہے؟ سو نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ جغرافیائی اہمیت والی کٹیگری میں پاکستان کا مقام بہت غیر معمولی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کون بچائے گا اسرائیل کو؟

وسائل والی کیٹیگری میں صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئلہ، نمک، تانبا، سونا، گیس اور دیگر معدنیات موجود ہیں۔ مگر نالائقی یہ ہے کہ ہم نے گیس اور تیل کے علاوہ کسی اور چیز کی تلاش اور اسے کام میں لانے سے تو جیسے گریز کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ ہم بس اسی کوشش میں لگے رہے ہیں کہ کسی طرح تیل والی لاٹری نکل آئے،  تو ہم بھی عرب شیخوں کی طرح ہر ویک اینڈ پر جوا کھیلنے لاس ویگاس جا پائیں۔ اور ہم بھی اپنے ملک کی بجائے امریکا اور مغرب میں سرمایہ پھنسانے کی توفیق حاصل کر پائیں۔  لیکن ہوا یہ کہ تیل بھی تاحال نہ ملا اور دیگر معدنیات کو کام میں لانے کی کوئی سکیم بھی نہ بن سکی۔ یوں وسائل ہونے کے باوجود پاکستان وسائل والی کٹیگری میں ایک کمزور ملک ہے۔

آبادی والی کٹیگری کی صورتحال بہت ہی شاندار ہے۔ مگر اس میں کلیدی رول اس بات کا ہے کہ معاشرہ مجموعی طور پر اعلی تعلیم یافتہ نہیں۔ یوں آبادی  کم ہی اچھی والی ’دانش‘ یہاں جڑ نہ پکڑسکی اور ملک 24 کروڑ کی آبادی ہی نہیں رکھتا بلکہ سب سے زبردست بات یہ ہے کہ اس آبادی کا 60 فیصد 30 سال اور اور اس سے کم عمر والے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جس کا مطلب پولیٹکل سائنس کی اصطلاح میں یہ ہے کہ پاکستان ایک ’نوجوان ملک‘ ہے۔ اور اہمیت اس کی یہ ہے کہ اگر ایک ایسی حکومت آگئی جس نے پوری ایمانداری سے یہ فیصلہ کرلیا کہ آبادی کو پوری طرح متحرک کرکے ملک کو ترقی کے راستے پر اسی سنجیدگی کے ساتھ ڈالنا ہے جو سنجیدگی چینی قیادت کی شناخت ہے تو پاکستان کو جوان اور توانا بازو ورک فورس کے طور پر دستیاب ہوں گے۔ اور اس کی ترقی غیر معمولی ہوگی۔فی الحال تو ہماری سیاسی قیادت اس مشن پر ہے کہ سب نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنی ہیں۔ اور ملک کی 60 فیصد جوان آبادی اس کام میں ان کا خوب خوب ہاتھ بٹا رہی ہے۔

 نواز اور شہباز شریف کی لیپ ٹاپ اسکیم کیا ہے؟ یہی کہ دیکھو بیٹا، اس لیپ ٹاپ سے آن لائن روزی بھی کماؤ اور اور ہماری خوشامد بھی کرو۔ ہم سے بڑے بڑے کارخانوں اور ان میں نوکریوں کی امید مت رکھنا، اور کبھی بھی مت بھولنا کہ موٹروے کس نے بنائی۔ اور یہی نوجوان پھر انہی لیپ ٹاپس کی مدد سے یہ بھی پوچھتے ہیں ’ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے؟‘ یوں آبادی والی کٹیگری میں پاکستان ہے تو بہت زبردست پوزیشن میں مگر معدنیات کی طرح یہاں بھی فائدہ اٹھانے کا کوئی عزم موجود نہیں۔

ٹیکنالوجی والی کٹیگری کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ صنعتی معیشت کا دارومدار اس پر ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان دنیا کی 25 ویں بڑی جبکہ نامنل جی ڈی پی کے لحاظ سے 38 ویں بڑی معیشت ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہاں ’بڑی‘ لفظ بنتا بھی ہے یا نہیں، مگر اپنے ملک کے لیے کہنا اچھی فیلنگز دیتا ہے سو برت دیا۔ پاکستان ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، چاول اور آم برآمد کرنے میں عالمی حیثیت رکھتا ہے۔ زراعت کا جی ڈی پی میں بڑا حصہ ہے، مگر اس میں بھی جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔یوں یہ شعبہ اپنی پوری استعداد کے مطابق پیداوار نہیں دے رہا۔ حیرت ہوتی ہے کہ امریکا، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک کے اسپتالوں میں سرجیکل آلات پاکستان کے استعمال ہوتے ہیں۔ کھیلوں کے سامان والے شعبے میں بلندی یہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ میں بھی فٹبال ہمارا استعمال ہوتا ہے۔ چمڑے  کی مصنوعات میں بھی ہم بڑی ساکھ کے ساتھ موجود رہے ہیں۔ اور ٹیکسٹائل میں تو ہماری دھاک امریکا اور یورپ کی مارکیٹوں میں ہے۔ لیکن پھر بھی قومی قیادت کو یہ خیال نہ آسکا کہ اس ٹیلنٹ کا دائرہ صنعت کے دیگر شعبوں تک بھی پھیلایا جائے۔ جو تب ہی ممکن ہے جب ملک ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھ رہاہو۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ چمڑے کی مصنوعات میں محض اس وجہ سے اب ہم اب تنزلی کا شکار ہیں کہ پرانی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

معیشت کے پہلو سے  بحران یہ ہے کہ قرضوں کا بوجھ، بڑھتی کرپشن، پالیسی کا تسلسل نہ ہونا اور انفراسٹرکچر کی کمی پہاڑ جیسے چیلنجز ہیں۔ جس نے نوجوان نسل کو مایوس کر رکھا ہے۔ مگر نوجوان نسل کی مایوسی کو سیریس لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ اس مایوسی کا اظہار تب کرتے ہیں جب یہ اپنے اپنے لیڈر کے یاقوت و مرجان تولنے سے فراغ پاکر ماں باپ کے اس سوال کا سامنا کرتے ہیں، ملی نوکری؟ بس گھنٹے بھر کی مایوسی ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ ایک بار پھر یاقوت ومرجان تولنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔اس کٹیگری میں صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ابھرتی ہوئی معیشت ہے مگر غیر مستحکم بھی اور بے یقینی کا شکار بھی۔ مستحکم اور ٹھوس معیشت اسی ملک کی ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں وقت کے تقاضے پورے کر رہا ہو۔ اس معاملے میں مضحکہ خیزی کا اندازہ اسی سے لگا لیجیے کہ پرویز ہود بھائی تنخواہ فزیکس پڑھانے کی لیتے ہیں مگر شہرت ان کی ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی ہے کہ پاکستان کا قیام درست تھا یا غلط؟ علامہ اقبال کو فلسفہ آتا تھا یا نہیں؟ رنجیت سنگھ کا مجسمہ بننا چاہیے یا نہیں؟ فزیکس میں انہوں نے فزیکس کا تو کچھ نہیں اکھاڑا البتہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اکھاڑنے کی انتھک مگر بے ثمر محنت بھی ان کا ایک حوالہ ہے۔

مزید پڑھیے: ’اسلام کا دفاع‘

دفاعی صلاحیت والی کٹیگری میں پاکستان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ اگرچہ اس لحاظ سے عالمی درجہ بندیوں کے کئی پیمانے رو بعمل ہیں مگر خود فوجی دنیا میں جن معیارات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ان کے مطابق ہمارے پاس دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ سات ممالک پر مشتمل ایلیٹ ملٹری کلاس یعنی نیوکلیئر کلب کا ہم حصہ ہیں۔ ہمارے پاس ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت بھی ہے جو ٹینکوں سے ے کر طیارہ سازی تک کئی شعبوں میں بہت ہی نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔  یوں صورتحال یہ ہے کہ خود سے کئی گنا بڑے انڈیا کی صرف 4 دن میں ہم نے طبیعت ایسی صاف کی کہ پچھلے 3 ماہ سے ایسا دن نہیں جاتا جب عالمی سطح پر گبر سنگھ سے یہ سوال نہ ہوتا ہو

’کتنے طیارے تھے؟‘

اور گبر سنگھ بتاتا ہی نہیں کہ

’6 تھے استاد 6 ‘

شکر ہے کہ ہمارے دفاعی شعبے کے لوگ ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ جیسوں کے جھانسے میں کبھی نہیں آئے ورنہ صورتحال یہ ہوتی کہ آج کی تاریخ میں یہ دونوں تو امریکا کے کسی بار میں ملتے اور ہم سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ایک اور زخم چاٹ رہے ہوتے۔

سفارتی اثر رسوخ والی کٹیگری میں تو ہم بلاشبہ بے تاج بادشاہ ہیں۔ اس شعبے میں ہماری دور اندیشی دیکھئے کہ 50 سال قبل ہم نے دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت اور آنے والے دور کی سپر طاقت یعنی امریکا اور چین سے پوچھا

’تم دونوں آپس میں بولتے کیوں نہیں؟’

ایک ناراض تھا، دوسرا شرما رہا تھا سو ہم نے  دونوں کو سمجھایا اور رچرڈ نکس کا تاریخی دورہ بیجنگ کروا دیا۔ ایٹمی ملک بننے کی کوشش کرنے والے عراق، لیبیا اور ایران کے ساتھ کیا ہوا اور ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہم ایٹم بنا بھی چکے، سنبھال بھی چکے  لیکن اس کوشش میں کسی بھی فزیکل ڈیمج کا شکار نہ ہوئے۔ یہ صرف وزارت دفاع کی کامیابی تھی؟ نہیں اس میں وزارت خارجہ کا بھی کلیدی رول رہا۔ جس نے ’بات چیت‘ کو کبھی اس ناکامی تک پہنچنے ہی نہ دیا جس کے بعد پیٹاگون اور نیٹو کے حرکت میں آنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔جنرل ضیاء کے دور میں اپنے ایٹمی پروگرام کو جس مہارت سے سفارتی ہتھیار سے ہم نے بچایا ہے وہ بجائے خود سفارتکاری کا ایک شاہکار ہے۔ کتنا عجیب ہے کہ ابھی روسی اس جمع تفریق میں مصروف تھے کہ سوویت زوال کے اثرات کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟ کہ اچانک ہم نے کریملن کے دروازے پر دستک دیدی۔ اندر سے آواز آئی

’کون ہے ؟‘

ہم بتا چکے کہ کون ہیں تو حیرت بھرے لہجے میں پوچھا گیا

’اب کیا لینے آئے ہو ؟‘

’دوستی، ہم آپ کے ساتھ گہری اور مضبوط دوستی کرنا چاہتے ہیں‘

صرف یہی نہیں بلکہ امریکی یہ بتاتی ڈاکومنٹریز بنا بنا کر تھک گئے کہ افغانستان میں ہم پاکستان کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہیں۔ یہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ وہ اس کے ثبوت بھی دیتے، جنہیں ہم مسترد کر دیتے۔ مگر سچ تو سچ ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ہمارا ہداف تھا کیا؟ یہی کہ ہمیں اپنی سرحد پر امریکا کا مستقل قیام منظور نہیں۔ یہ ہدف حاصل ہونے کے صرف 4 سال بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر کے ساتھ لنچ کرتے پائے گئے۔ وہ کھانا اور ہم دانہ ڈال رہے تھے۔ کسی کو اندازہ بھی ہے کہ یہ سفارتکاری کے شعبے میں ہماری کتنے بڑے درجے کی مہارت کا ثبوت ہے؟

مزید پڑھیں: امریکی دفاع اور منی لانڈرنگ

آخری کٹیگری ثقافتی اثر اندازی کی ہے۔اس پہلو سے پاکستان اردو زبان کا تنہا وارث ہے جو دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زائد لوگوں کی زبان ہے۔ اس زبان میں نثری و شعری لحاظ سے پاکستان کی خدمات  مسلم ہیں۔ موسیقی میں نصرت فتح علی خان نے اس ہندوستان پر راج کیا ہے جو مشرق گائیکی پر اپنی اجارہ داری کا دعویدار ہے۔ صرف نصرت ہی نہیں بلکہ حالیہ عرصے میں کوک سٹوڈیو پاکستان کو  دنیا کے کئی ممالک نے بطور ماڈل فالو کیا۔ اور ایک انڈین گلوکارہ کو پچھلے ہفتے ہی یہ طنز کرنا پڑا

’پاکستان کے پاس کوک اسٹوڈیو کے سوا کچھ نہیں‘

ہماری فلمیں تو کچھ خاص نہیں رہیں لیکن ڈرامے کی نسبت سے تو انڈین بھی ہماری برتری کے معترف رہے ہیں۔ وہ الگ بات پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے آکر ہمارے ڈرامے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ فیشن اور ہینڈی کرافٹس میں بھی پاکستان کے  تمام صوبے اپنے منفرد رنگوں کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈیجٹل ثقافت کے پہلو سے بھی سوشل میڈیا پر پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک خاص چیز یہ کہ صوفی ازم کی مذہبی حیثیت سے قطع نظر اس کے صرف ثقافتی پہلو کو دیکھا جائے تو صوتی حوالے سے ہی تلاوت، نعت خوانی اور صوفی گائیکی نے عالمگیر شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ بالخصوص صوفی گائیکی میں اب مغربی موسیقار بھی تجربات کر رہے ہیں۔  خلاصہ یہ کہ ثقافتی اثر اندازی کے لیے درکار مسالے ہمارے پاس پورے ہیں۔ یوں اس کٹیگری میں پاکستان بہت تگڑا ملک ہے۔ چونکہ پاکستان تمام کٹیگریز میں بہتر پرفارم نہیں کرہا۔ بعض میں بہت اچھا اور بعض میں بہت کمزور ہے۔ یوں ہمارا مجموعی قد کاٹھ درمیانے درجے کا ہے۔ اور اس میں بہتری کی تب تک کوئی امید نہیں جب تک یہ قوم تمامتر بربادی کے باوجود نا اہل  لیڈروں کی غلامی پر آمادہ ہے !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا پاکستان کا عالمی قد کاٹھ پاکستان کی سفارتی پوزیشن جنوبی ایشیا چین سینٹرل ایشیا مشرق وسطیٰ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاکستان کی سفارتی پوزیشن جنوبی ایشیا چین سینٹرل ایشیا صورتحال یہ ہے کہ کہ پاکستان پاکستان کی سے پاکستان پاکستان کے پاکستان کا ہمارے پاس نہیں بلکہ ہوتے ہیں رہے ہیں کے ساتھ میں بہت میں بھی ہی نہیں کے بعد کے لیے بھی ہے اور ہم ملک کی اور اس

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی