اسلام آباد:

معرکہ حق اور بنیان مرصوص سے جڑے حقائق اور مستند تفصیلات پر مبنی کتاب دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ (The war that changed everything) کی رونمائی کی 11 اگست کو ہوگی جس کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔

بھارت کے خلاف پاک فوج کے کامیاب آپریشن کے حقائق پر مبنی کتاب دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ کی رونمائی 11 اگست کو ہو گی، اس کتاب کو نامور صحافی مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی اسکالر احمد حسن العربی نے تحریر کیا ہے۔

کتاب میں حالیہ پاک-بھارت کشیدگی سے متعلق تہلکہ خیزانکشافات شامل ہیں، کتاب میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ میں بنیان مرصوص نام کس نے اور کیوں تجویز کیا سمیت تمام تفصیلات شامل ہیں، پہلگام کے بھارتی بے بنیاد بیانیے سے لے کر معرکہ حق تک تمام راز عیاں کیے گئے ہیں۔

جنگ کے دوران  اندرونی فیصلہ سازی کی اہم ترین معلومات بھی پہلی بار منظر عام پر آگئے ہیں، کتاب میں معرکہ حق سے متعلق حقائق کو شواہد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معرکہ حق

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں