معرکہ حق اور بنیان مرصوص، حقائق اور معلومات پر مبنی کتاب کی رونمائی کی تفصیلات منظرعام پر
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
معرکہ حق اور بنیان مرصوص سے جڑے حقائق اور مستند تفصیلات پر مبنی کتاب دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ (The war that changed everything) کی رونمائی کی 11 اگست کو ہوگی جس کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
بھارت کے خلاف پاک فوج کے کامیاب آپریشن کے حقائق پر مبنی کتاب دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ کی رونمائی 11 اگست کو ہو گی، اس کتاب کو نامور صحافی مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی اسکالر احمد حسن العربی نے تحریر کیا ہے۔
کتاب میں حالیہ پاک-بھارت کشیدگی سے متعلق تہلکہ خیزانکشافات شامل ہیں، کتاب میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
دی وار دیٹ چینجڈ ایوری تھنگ میں بنیان مرصوص نام کس نے اور کیوں تجویز کیا سمیت تمام تفصیلات شامل ہیں، پہلگام کے بھارتی بے بنیاد بیانیے سے لے کر معرکہ حق تک تمام راز عیاں کیے گئے ہیں۔
جنگ کے دوران اندرونی فیصلہ سازی کی اہم ترین معلومات بھی پہلی بار منظر عام پر آگئے ہیں، کتاب میں معرکہ حق سے متعلق حقائق کو شواہد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معرکہ حق
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔