معروف اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے پاکستانی فلموں میں آئٹم نمبرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ نورا فتیحی کو اسکرین پر دیکھتے ہیں تو پاکستانی آئٹم نمبرز ان کے ذہن سے نکل جاتے ہیں۔

حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے یاسر حسین نے آئٹم نمبرز پر کھل کر بات کی اور ان کی ثقافتی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا کلچر کیا ہے؟ کیا یہ تقسیم سے پہلے والا ہے یا بعد کا؟ عورتوں کے رقص دیکھنے کی روایت برصغیر میں پرانی ہے اور یہ مغلیہ دور سے جاری ہے۔ ہیرا منڈی ہمیشہ سے رہی ہے، صرف 80 کی دہائی میں ان سب چیزوں پر پابندی لگادی گئی، جو اب دوبارہ مختلف انداز میں سامنے آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آئٹم گرل نورا فتیحی کا نماز کی ادائیگی سے متعلق حیران کن انکشاف

یاسر حسین نے بتایا کہ ماضی کی پاکستانی فلموں میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پرانی فلمیں دیکھیں، نور جہاں گانے گا رہی ہیں، اداکارائیں رقص کر رہی ہیں۔ تب یہ سب عام بات تھی۔ اب یہ اچانک ہمارے کلچر سے کیسے باہر ہو گیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پاکستان میں آئٹم نمبرز پسند نہیں کیونکہ جب میں نورا فتیحی کو دیکھتا ہوں، تو ہمارے گانے بے معنی لگتے ہیں۔ میں اپنا معیار اتنا نیچا نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھیں: نورا فتیحی اور آریان خان چہ میگوئیاں کے درمیان

یاسر حسین نے فلم سازوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ آئٹم نمبرز کو فلموں کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو ان کا معیار بھی بلند کریں۔ آپ ایک طرف ثقافتی اقدار کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خواتین کے رقص دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دہرا معیار ہے۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ آئٹم نمبرز پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ اس سے کچھ فائدہ تو ہو۔ یہ بند تو نہیں ہوں گے، کم از کم ریاست کو فائدہ ہو۔ اگرچہ آئٹم نمبرز پر عوامی سطح پر تنقید ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یوٹیوب پر ان گانوں کے کروڑوں ویوز ہوتے ہیں، جو ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئٹم نمبرز معروف اداکار و ہدایتکار نور جہاں نورا فتیحی یاسر حسین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: معروف اداکار و ہدایتکار نور جہاں نورا فتیحی یاسر حسین یاسر حسین نے نورا فتیحی

پڑھیں:

اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے  الزام  میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق  یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب  ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4  پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ  اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ  بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان