مسلم سیاستدان سے شادی کرنے والی اداکارہ ہندو انتہا پسندوں سے پریشان
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
بھارت کے مسلم سیاستدان فہد احمد سے شادی کرنے والی اداکارہ سوارا بھاسکر نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے شوہر کیلئے کئے گئے تبصرے پر سخت ردعمل دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک صارف نے فہد احمد کو "چھپری” اور "ڈونگری سڑک چھاپ” کہہ کر طنز کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ صارف سوارا اور فہد کی ایک ریئلٹی شو "پتی پتنی اور پنگا” میں شرکت کے بارے میں تنقید کر رہا تھا اور ان کا موازنہ اداکارہ پری نیتی چوپڑا کے شوہر کے ساتھ کر رہا تھا۔
اداکارہ سوارا بھاسکر نے اس ایکس صارف کی جانب سے اپنے شوہر فہد احمد کے لیے استعمال کیے گئے توہین آمیز الفاظ پر سخت ردعمل دیا اور اس ٹرول کا اسکرین شارٹ شیئر کرتے ہوئے صارف کی بات کو ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ "چھپری” ایک ذات پر مبنی توہین آمیز اصطلاح ہے جو ایک مخصوص کمیونٹی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سوارا نے اس صارف کو ذات پات اور طبقاتی تعصب کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونگری یا کہیں کا بھی سڑک چھاپ ہونا کوئی شرم کی بات نہیں۔
سوارا نے اپنی پوسٹ میں کہا، "اس سخص کا تبصرہ ذات پات اور طبقاتی تعصب سے جڑا ہے ایسی زبان ناقابل قبول ہے۔” انہوں نے اس موقع پر #casteistAlert کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
یاد رہے کہ بالی ووڈ کی اداکارہ سوارا بھاسکر نے 16 فروری 2023 کو اپنے قریبی دوست اور مسلم سیاستدان فہد احمد سے شادی کی تھی جس پر انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہیں اکثر اس طرح کے طنزیہ تبصروں اور آن لائن ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فہد احمد
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت