غزہ میں شہید فلسطینی فٹبالر کو یوئیفا کا خراج عقیدت، محمد صلاح کا طنزیہ سوال وائرل
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
یورپی فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) کی جانب سے فلسطینی فٹبالر سلیمان العبید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی پوسٹ پر لیورپول کے اسٹار فٹبالر محمد صلاح کا سوال سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
یوئیفا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سلیمان العبید کو "فلسطینی پیلے" قرار دیتے ہوئے لکھا کہ "الوداع سلیمان العبید" تاہم یہ پوسٹ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی جب اسٹار فٹبالر محمد صلاح نے یوئیفا سے سوال کیا کہ آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ کیسے، کہاں اور کیوں جاں بحق ہوئے؟۔
Can you tell us how he died, where, and why? https://t.
محمد صلاح کے سوال کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوا اور دنیا بھر سے شائقین نے اسرائیلی مظالم پر تنقید کی مگر یوئیفا نے صلاح کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔
اسی دوران ایک مداح نے ایکس کے اے آئی اسسٹنٹ "گروک" سے سلیمان کی موت کی تفصیل پوچھی تو اس نے انکشاف کیا کہ 41 سالہ سلیمان العبید 6 اگست 2025 کو جنوبی غزہ میں امداد کے انتظار کے دوران شہید ہوئے۔
@grok , how did he die ?
— M (@here4theFPL) August 9, 2025گروک کے مطابق فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کارروائی میں انہیں قتل کیا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر کوئی وضاحت نہیں دی اور ہمیشہ کی طرح اپنے وحشیانہ انسانیت سوز جرائم کو چھپانے کے لیے بہانے بناتی رہی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ محمد صلاح نے فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے عالمی رہنماؤں سے اپیل کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلیمان العبید محمد صلاح
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔