چین میں شہری نے جِم کی 300 سالہ ممبرشپ حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
چین میں ایک شہری نے جِم کی 300 سالہ ممبرشپ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ غیر معمولی ڈیل چین کے صوبہ سیچوان میں ایک فٹنس کلب نے پیش کی جس میں 300 سال تک جِم کی سہولت استعمال کرنے کا وعدہ کیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس ممبرشپ کی قیمت عام سالانہ فیس کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے لیکن خریدار کا کہنا ہے کہ وہ اسے اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ماہرین نے اس آفر کو ایک مارکیٹنگ اسٹنٹ قرار دیا ہے کیونکہ عملی طور پر کوئی بھی اتنی طویل مدت تک ذاتی طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
تاہم قانونی طور پر اگر جِم اتنا عرصہ قائم رہا تو یہ ممبرشپ اس کے وارثین استعمال کر سکیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے جِم کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ یہ جِم تو خود شاید 300 دن بھی نہ چلے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔