عمران خان کے بارے میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے متضاد بیانات، سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے دعویٰ کیا ہے عمران خان کی حکومت کسی بھی طور پر ڈیفالٹ کے قریب نہیں تھی، ڈیفالٹ کا جھوٹ بولا گیا تھا اور ایسا بیانیہ بنایا گیا تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔
محمد زبیر نے کہا کہ جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور کہانی بنائی گئی کہ ہم نے ریاست بچانے کے لیے سیاست ختم کر دی لیکن ایسا نہیں تھا اقتدار لینے کے لیے یہ سب کیا گیا۔ فسانہ گھڑا گیا تھا کہ معیشت ڈیفالٹ کر جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ حکمران زبردستی اقتدار پر قابض ہیں اور کہتے ہیں کوئی واویلا بھی نہ کرے، محمد زبیر
سابق گورنر سندھ کے مطابق عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے وقت 17 بلین ڈالرز کے ریزرو تھے اور جون 2023 میں ریزروز 4 بلین ڈالرز رہ گئے تھے۔ تو 17 بلین ڈالرز پر معیشت ڈیفالٹ کرنی تھی یا 4 ارب ڈالرز پر معیشت ڈیفالٹ کرنی تھی۔
سوشل میڈیا صارفین محمد زبیر کے معیشت سے متعلق حالیہ بیانات پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان کے پرانے بیانات شیئر کر رہے ہیں جس میں وہ عمران خان کے خلاف بیانات دیتے نظر آتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد زبیر کے انکشافات پر تحریک انصاف کا سابق آرمی چیف کے کورٹ مارشل کا مطالبہ
ایک صارف نے ان کی پرانی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ عمران خان کی حکومت کے خلاف کہہ رہے ہیں کہ جب تک انہیں نہیں ہٹائیں گے اس ملک کی گاڑی آگے نہیں چلے گی کیونکہ انہوں نے تباہی کی ہے اور ان کا جانا ضروری ہے، صارف نے تنقید کرتے ہوئے محمد زبیر کو دنیا کا سب سے بڑا مناق قرار دے دیا۔
دنیا کا سب سے بڑا منافق۔ https://t.
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 10, 2025
شفیق احمد نے کہا کہ جب پارٹی سے نکال دیا جائے تو کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے، نا گھر کا نا گھاٹ کا۔
@Real_MZubair
جب نکال دیا جائے تو کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے… نا گھر کا نا گھاٹ کا.. ???? https://t.co/WJ0YMI9ujO
— Shafiq Ahmad ™ (@shafiq_a) August 10, 2025
ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ باتیں محمد زبیر پہلے کرتے تو وہ مان جاتے۔
کا ش یہ باتیں پہلے اس وقت کہتے تو ھم مان لیتے
— Noor Ali (@NoorAli77465933) August 10, 2025
واضح رہے کہ جون 2024 میں محمد زبیر نے مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اس کے بعد سے پی ڈی ایم اور مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی مسلم لیگ ن چھوڑ دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد عمران خان عمران خان حکومت محمد زبیر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تحریک عدم اعتماد عمران خان حکومت عمران خان کے مسلم لیگ ن کے خلاف
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ