رائیڈر کے ذریعے قیمتی سامان بھجوانے والے خبردار
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سٹی42: اِن ڈرائیو (InDrive) ایپ کے ذریعے ڈلیوری کا سامان بھجوانے والے شہری ہوشیار ہو جائیں کیونکہ شہر میں درجنوں افراد کے قیمتی پارسل رائیڈرز نے ہتھیا لیے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈلیوری رائیڈرز کے خلاف 12 سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق بیشتر مقدمات میں رائیڈرز پر پارسل وصول کرنے کے بعد مقررہ مقام پر ڈلیور نہ کرنے کے الزامات ہیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ رائیڈرز قیمتی سامان لے کر غائب ہو گئے اور کمپنی کی جانب سے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی جا رہی۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اہم کیسز کی تفصیلات ہربنس پورہ میں شہری حماد کا کھانا رائیڈر لے گیا مگر واپس نہ آیا۔اقبال ٹاؤن کے شہری وقاص کا 10 لاکھ روپے مالیت کا کپڑوں کا پارسل غائب ہو گیا۔اقبال ٹاؤن ہی کی ناہید کا ڈھائی لاکھ روپے کا سامان بھی رائیڈر نے ہڑپ کر لیا۔
اس کے علاوہ لٹن روڈ، لیاقت آباد، فیکٹری ایریا، گارڈن، گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ کے تھانوں میں بھی ایسے متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی سے رائیڈرز کے کوائف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں InDrive ایپ کا کوئی ذمہ دار عہدیدار موجود نہیں، جس کے باعث تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی