چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تاریخی اقدام
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ آف پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 3 سینیٹرز کو سینیٹ کے اہم اجلاس یعنی سیشن 353 کے لیے پینل آف چیئر پر نامزد کیا ہے۔
یہ 3 نامزدگیاں سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر خلیل طاہر سندھو، اور سینیٹر گردیپ سنگھ کی ہیں جو مختلف اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس اقدام کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’اقلیتی کاکس‘ کا قیام
چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ قومی اتحاد، رواداری، اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اقلیتوں کی نمائندگی کو مضبوط بنانے سے پاکستان میں مساوات اور انصاف کے قیام میں مدد ملے گی۔
سینیٹ میں اقلیتوں کی شرکت کو بڑھاوا دینا اور ان کے مسائل کو قومی ایوان میں آواز دلانا پاکستان کے جمہوری اصولوں کی تکمیل ہے۔ یہ اقدام ملک میں بھائی چارے اور یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ مختلف اقلیتوں کے 3 نمایاں سینیٹرز کو بیک وقت پینل آف چیئر میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے پارلیمانی نظام میں شمولیت کی نئی مثال قائم ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سینیٹر خلیل طاہر سندھو، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر گردیپ سنگھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سینیٹر دنیش کمار چیئرمین سینیٹ اقلیتوں کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،