سلام آباد کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے سی ڈی اے اور پاورٹی الیوی ایشن فنڈ کا اشتراک
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سلام آباد کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے سی ڈی اے اور پاورٹی الیوی ایشن فنڈ کا اشتراک WhatsAppFacebookTwitter 0 12 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیج سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔
اس موقع پر سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
ملاقات میں اسلام آباد کے پسماندہ علاقوں کی ترقی، ہنر مندی کے فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافے اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کئے جانے پر گفتگو کی گئی۔
چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ پائیدار شہری ترقی اور سماجی فلاح و بہبود کے بغیر شہر کی خوشحالی ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔
پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل نے چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد کی قیادت میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کی گئی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے اس مشن میں سی ڈی اے کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ دونوں ادارے مل کر غربت کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں اداروں نے باہمی کوارڈینیشن کو موثر بنانے پر اتفاق کیا تا کہ اسلام آباد شہر میں غربت کی تخفیف کیلئے عملی منصوبے کا آغاز کیا جا سکے۔ جس کا مقصد شہر کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانا اور انہیں معاشی طور پر مستحکم بنانا ہوگا۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی ڈی اے پاکستان پاورٹی الیوی ایشن فنڈ مل کر اسلام آباد کو ایک مزید بہتر اور خوشحال شہر بنانے کیلئے کام کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیے سپریم کورٹ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیے پشاور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری روک دی کوشش ہوگی اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے، مجید بریگیڈ پر پابندی لگوائیں، بلاول بھٹو سیاسی شخصیت کیخلاف پیش ہونے کیلیے 7 کروڑ روپے فیس کی پیشکش ہوئی، وفاقی وزیر قانون کا انکشاف مسلم لیگ (ق) برطانیہ کا 14 اگست بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منانے کا اعلان اسلام آباد میں مقامی سطح پر کل عام تعطیل کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے اور کے پسماندہ ا باد کے کی ترقی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور