حکومت اور زائرین کمیٹی کے درمیان اہم اجلاس، زائرین کو روانہ کرنے کیلئے فوری اقدامات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اجلاس میں کئے جانے والے فیصلہ جات کے مطابق بارڈر پر موجود طلباء کو آج ہی ریمدان اور تفتان سے بارڈر کراس کرانے کے احکامات جاری ہوں گے،زمینی راستوں کے زائرین کی فہرست زائرین کمیٹی آج ہی وزارت داخلہ کو فراہم کرے گی، جنہیں ترجیحی بنیادوں پر اربعین فلائٹس میں بھیجا جائے گا، زائرین کی سہولت کے لیے اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے فضائی روانگی کا انتظام کیا جائے گا، اربعین ویزہ کی توسیع کے لیے وزارت خارجہ آج ہی عراقی حکومت سے درخواست کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ زیارات مقدسہ کے سفر پر جانے والے زمینی زائرین کے مسائل کے حل کے لیے آج وزارت داخلہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت اور زائرین کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری داخلہ نے کی جبکہ سیکرٹری مذہبی امور، وزارت خارجہ، ایف آئی اے، ہوم سیکرٹری بلوچستان و سندھ، وزارت دفاع، سیول ایوی ایشن، وزارت خزانہ اور دیگر اداروں کے حکام شریک تھے۔ زائرین کمیٹی کی جانب سے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، علامہ سید احمد اقبال رضوی، ایم این اے انجینئر حمید حسین، زاہد علی آخونزادہ، علامہ مقصود احمد ڈومکی اور علامہ صادق جعفری نے شرکت کی۔ سندھ و بلوچستان کے ممبران نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے مسائل کے حل میں تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے اربعین اور ماہ صفر میں زائرین کو روانہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کا یقین دلایا۔
اجلاس میں کئے جانے والے فیصلہ جات کے مطابق بارڈر پر موجود طلباء کو آج ہی ریمدان اور تفتان سے بارڈر کراس کرانے کے احکامات جاری ہوں گے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور وزارت دفاع کو زمینی زائرین کے فضائی شیڈول کے اجراء کے لیے فوری مکتوب بھیجا جائے گا، زمینی راستوں کے زائرین کی فہرست زائرین کمیٹی آج ہی وزارت داخلہ کو فراہم کرے گی، جنہیں ترجیحی بنیادوں پر اربعین فلائٹس میں بھیجا جائے گا، زائرین کی سہولت کے لیے اسلام آباد، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سے فضائی روانگی کا انتظام کیا جائے گا، اربعین ویزہ کی توسیع کے لیے وزارت خارجہ آج ہی عراقی حکومت سے درخواست کرے گی، سفر اور واپسی کے دوران رابطہ کاری کے لیے فوکل پرسنز کا واٹس ایپ گروپ قائم کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے سیول ایوی ایشن اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ فلائٹ شیڈول اور رعایتی کرایوں کا اعلان فوری کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ زمینی زائرین اربعین پر روانہ ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زائرین کمیٹی وزارت داخلہ اجلاس میں زائرین کی جائے گا کے لیے کرے گی
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد:سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔
سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔