سینیٹ اجلاس؛ اقلیتوں کے دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سٹی 42 : سینیٹ اجلاس میں اقلیتوں کے دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، اسلامی نظریاتی کونسل، معذور افراد کے حقوق بل پر فنگشنل کمیٹی انسانی حقوق پر رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار نے اقلیتیوں کے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کی، جس کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اقلیتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بانی پاکستان کا 11 اگست کا خطاب اقلیتوں کے حقوق کی پالیسی ہے، پاکستان کی اقلیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
قرارداد کے متن کے مطابق اقلیتی کاکس قائم کرنے پر چیئرمین سینیٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اقدامات کرے، حکومت بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق آگاہی مہم چلائے۔
علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل اور معذور افراد کے حقوق بل پر فنگشنل کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ پیش کی گئیں۔ اجلاس میں دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 بھی پیش کر دیا گیا، بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، دانش سکول بل متعقلہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اس کے علاوہ سینیٹ میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 بھی پیش کر دیا گیا، بل وفاقی وزیر جام کمال خان نے پیش کیا، سینیٹ نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، سینیٹ میں قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی صنفی برابری سے متعلق سال 2023 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
وزیر قانون و انسانی حقوق نے دونوں رپورٹس ایوان میں پیش کیں۔ دورانِ اجلاس بی اے پی کے سینیٹر منظور کاکڑ نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس آدمی نے گولیاں ماری ہیں اس کو سزا ملنی چاہئے، سردار شیر باز اچکزئی علاقے کا سردار ہے، سردار کے پاس نہ ہی جرگہ آیا نہ ہی اس نے فیصلہ دیا، خاتون پہلے شادی شدہ تھی اور سولہ سترہ سالا بیٹا ہے۔ سردار شیر باز اچکزئی کو کیوں اٹھایا گیا؟ جس نے جرم کیا اس کی گرفتاری نہیں ہوئی، لڑکی کی والدہ کا بیان بھی آیا ہے اور دیگر قبائل کے بیان بھی آئے، انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
رونالڈو نے 8 سال تک ڈیٹنگ کے بعد جورجینا سے منگنی کر لی
سینیٹر عرفان صدیقی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کو بولنے دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کو گالیاں دے، 9 مئی کو 250 مقامات پر حملے ہوئے ہیں، 9 مئی کو ہم کہاں لے جائیں، کل اسد قیصر نے کہا کہ ہماری غلطی ہے کہ باجوہ صاحب کو توسیع دی، پی ٹی آئی کے غلطیوں کے انبار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف بانی پی ٹی آئی کے پاس چل کر گئے تھے، بانی پی ٹی آئی کو سزا ہوئی ہے، احتجاج آپ کا حق ہے، پی ٹی آئی مان لے کہ فوج نے تنصیبات پر حملہ کر کے غلطی کی ہے، نواز شریف کو جب سزا ہوئی تو ہم نے جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیا، ان میں سننے کا حوصلہ ہی نہیں۔
بانی تحریک انصاف کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری
علامہ راجہ ناصرعباس نے ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سال میں دس لاکھ سے زائد لوگ زیارات کیلئے جاتے ہیں، سیکورٹی کے نام پر بے جا گرفتاریاں ہو رہی ہیں، پنجاب میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں کہا گیا پیدل چل کر جانا بدعت ہے، لوگ پیدل جائیں گے، بے شک آپ انہیں جان سے مار دیں، ہمارے لوگوں کے نام شیڈول فور میں ڈالے جا رہے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے علامہ راجہ ناصر عباس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آئی جی پنجاب سے آج بات کی کہ کیوں عملی اقدام نہیں ہے؟ زائرین یا جلوس کے شرکاء کی سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، کورونا میں زیارات بند ہوئی تھیں، سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کچھ اقدام لیے گئے۔
بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ سروس ایک ہفتے سے معطل، عوام شدید مشکلات کا شکار
انھوں نے کہا کہ فرقہ واریت کی لڑائی میں ماضی میں بہت نقصان ہوا، مجالس کرنے اور مجالس میں جانے پر کوئی پابندی نہیں، زائرین کی روانگی کے حوالے سے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں تفصیلاً سب بتایا۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہاں بیوروکریسی کی کوئی جوابدہی نہیں، یہ مراعات دے رہے ہیں، بندر بانٹ ہو رہی ہے، پاکستان ری انشورنس کی بات ہو رہی ہے، 335 ملین کی بات ہو رہی تھی انکی مراعات کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا پبلک پیسہ ہے، پارلیمان کو ایمپاور کریں، تمام بورڈز کا آڈٹ ہونا چاہئے، یہ ہاؤس لوگوں کو اکاؤنٹیبل بھی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انھوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے اجلاس میں پی ٹی آئی بھی پیش کے حقوق پیش کر ہو رہی پیش کی
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ