مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کامسودہ منظور کرلیا،بل کل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کامسودہ منظور کرلیا،بل کل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کامسودہ منظور کرلیا،بل کل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا،27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور اور منظوری کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا جس میں آئینی ترمیم کی شق وار متفقہ منظوری دی گئی ،پی ٹی آئی، ایم ڈبلیو ایم، پی کے میپ اور سنی اتحاد کونسل کا کمیٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی اے این پی کی تجویز ،بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی ترمیم پر حکومت نے مزید وقت مانگ لیا،زیرالتوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم منظور ، ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصورکیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی، سفارشات کل ایوان بالا میں پیش کی جائیں گی جبکہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم سمیت صدر کے استثنیٰ کو بھی منظور کرلیا گیا۔اتوار کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک کی سربراہی میں ہوا۔ جس میں اپوزیشن کے علاوہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں سینیٹر طاہر خلیل سندھو، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر اور ابرار شاہ کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر اور دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔مشترکہ پارلیمانی کمٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی منظوری دے دی، یہ فیصلہ آرٹیکل پر تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور اس کے تحت آئینی عدالتوں کے قیام اور دیگر اہم شقوں پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ صدر کے تاحیات استثنی کی شق بھی منظور کرلی گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کا صوبے کے نام کی تبدیلی کا معاملہ موخر کردیا گیا۔
بلوچستان عوامی پارٹی کا صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد اضافے کا معاملہ پی ایم ہاوس میں زیر غور آئیگا جب کہ اجلاس میں ایم کیو ایم کا بلدیاتی انتخابات کو آئینی کور دینے کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا۔ پارلمانی کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری دیدی، کمیٹی نے زیرالتوا مقدمات کے فیصلے کی مدت کو 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی ہے۔ اس کے مطابق اگر مقدمے کی پیروی ایک سال تک نہ کی گئی تو اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائیگا۔ آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری صدر مملکت کریں گے۔ آئینی عدالت 7 ججز پر مشتمل ہو گی، آئین میں ترمیم منظور ہوگئی، جب کہ آئینی عدالت کا سربراہ باقی ججوں کی نامزدگی خود کرے گا۔قائمہ کمیٹی نے ججز کی ٹرانسفر کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری بھی دے دی۔ جو جج ٹرانسفر پر رضامند نہیں ہو گا اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا، ریٹائرڈ شدہ جج کو مراعات اور پنشن دی جائے گی۔مشترکہ کمیٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی حتمی منظوری دے دی جب کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی تجاویز پر کمیٹی اجلاس فیصلہ نہ کر سکی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ترامیم کے بعد بنیادی مسودے کی منظوری دے دی گئی ہے، ایک دو ترامیم پر مجھے اور وزیرقانون کو تبدیلی کا اختیار دیا گیا، کہا گیا ہے کہ آپ چاہیں تو ان میں تبدیلی کرسکتے ہیں،صحافی کے صدر زرداری سے متعلق سوال پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ابھی تو ترمیم پاس نہیں ہوئی، آپ کیوں ناراض ہورہے ہیں۔دوسری جانب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا بنیادی مجوزہ ڈرافٹ منظور کرلیا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا بنیادی مجوزہ ڈرافٹ پر اتفاق کیا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بل میں شامل شقوں پر کام تقریبا مکمل ہوگیا ہے کچھ تجاویز جو بعد میں آئیں ان پربات چیت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے صوبے کے نام کی تبدیلی بارے کچھ بات ہوئی ہے، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی تجاویز پر اب غور کیا جا رہا ہے، عوامی نیشنل پارٹی اور بی اے پی کی تجاویز پر اپنی اپنی قیادت سے بات ہوگی اور وقفہ اس لیے ہی کیا گیا ہے سیاسی جماعتیں اپنی قیادت سے بات کر لیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھرپور آپریشن جاری چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھرپور آپریشن جاری ترمیم سے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا گیا،804تسبیح والا آئیگا اور تمام ترامیم ملیا میٹ ہوجائیں گی، سینیٹر نور الحق قادری جنرل شمشاد مرزا کا دورہ سعودی عرب، کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر سے نواز گیا آئینی ترمیم ، حکومت نے اتحادی جماعتوں کی تجاویز پر کل تک کی مہلت مانگ لی عدلیہ کی آزادی کیلئے قربانیاں دیں،انتقام کے بجائے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، سینیٹر پرویز رشید پی ٹی آئی جتنا پارلیمنٹ سے دور جائیگی اتنا سیاست سے دور جائیگی،طلال چودھریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم فاروق ایچ نائیک آئینی ترمیم کا کی تجاویز پر منظور کرلیا کیا جائیگا میں پیش کی اجلاس میں اسمبلی کی کی منظوری ایک سال گیا ہے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔