مقبوضہ کشمیر میں کل پاکستان کا یوم آزادی بھرپور انداز میں منانے کااعلان،15اگست کو یوم سیاہ منایا جائیگا
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر میں کل پاکستان کا یوم آزادی بھرپور انداز میں منانے کااعلان،15اگست کو یوم سیاہ منایا جائیگا WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
سرینگر (سب نیوز)مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نے 14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی بھرپور طریقے سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی کال دی ہے، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں پندرہ اگست کو ہڑتال ہوگی۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کو کشمیریوں کے لیے یوم تشکر اور خوشی کا دن قرار دیتے ہوئے 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو کشمیریوں کے لیے یوم سیاہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے، اور کشمیریوں کے حقوق کو غصب کیا ہے۔
غلام احمد گلزار نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کو اپنا محسن اور سفیر سمجھتے ہیں، اور بھارت کو ظالم و جابر تسلیم کرتے ہیں جس نے کشمیریوں کا حق خود ارادیت چھین لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری پاکستان کے استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا گو ہیں کیونکہ ایک مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہی کشمیریوں کے بہترین مفاد میں ہے۔
غلام احمد گلزار نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کریں اور آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں یوم آزادی منانے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے کشمیریوں کے تمام سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی اور مذہبی حقوق غصب کر رکھے ہیں۔
دریں اثنا، کل جماعتی حریت کانفرنس نے 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی پر پاکستانی عوام اور حکومت کو مبارکباد دی۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد کے نتیجے میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام اللہ تعالی کی طرف سے اس کے عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے اور پاکستان نہ صرف تنازعہ کشمیر کا اہم فریق ہے بلکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا بڑا حامی اور وکیل بھی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے منصفانہ کاز کی حمایت کی ہے اور وہ کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچہلم پر فول پروف سیکیورٹی کیلئے ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات چہلم پر فول پروف سیکیورٹی کیلئے ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات اسلام آباد میں معرکہ حق اور جشن آزادی کی تقریب جاری، سول و عسکری قیادت شریک غزہ میں صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 123فلسطینی شہید باجوڑ میں آپریشن شروع ہوچکا، یہ آپریشنز خیبرپختونخوا کی معدنیات پر قبضے کیلئے ہو رہے ہیں، رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر پاکستان کے اندر حقیقی آزادی کی جنگ سمیت ابھی کئی جنگیں لڑنی ہیں، علی امین گنڈاپور کا پیغام اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس، اسٹیل ملز کی 32سو ایکڑ زمین پر انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنیکی منظوریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کا یوم آزادی یوم سیاہ
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس