مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن ناکام، 9 فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر کے ضلع کلگام میں بھارتی فوج کا طویل آپریشن انجام کو پہنچا اور فوجی خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ آپریشن 12 روز تک جاری رہا جس کے دوران محصور بھارتی اہلکار کھانے پینے کی اشیا سے محروم ہوکر بھوک اور پیاس کے عالم میں مٹی کھانے پر مجبور ہوگئے۔
کلگام کی یہ کارروائی بھارتی فورسز اور کشمیری مزاحمت کاروں کے درمیان حالیہ برسوں کی سب سے طویل جھڑپ ثابت ہوئی، جس میں 9 بھارتی فوجی ہلاک اور کرنل سمیت 14 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران استعمال کیے گئے ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز بھی کوئی نتیجہ نہ دے سکے۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن کے اختتام سے قبل ایک بھارتی فوجی نے اپنے آخری پیغام میں کہا ’پانچ دن سے کھانے پینے کو کچھ نہیں، فوجی مٹی کھا کر زندہ ہیں۔‘
کشمیر نیوز آبزرور نے بھارتی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مزاحمت کار بھارتی محاصرہ توڑ کر قریبی جنگل میں محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ادھر حریت کانفرنس نے کلگام آپریشن کو بھارتی فوج کی حالیہ سب سے بڑی شرمناک ناکامی قرار دیتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے بے مقصد فوجی آپریشن کرواتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن بھارتی فوجی فوجی مٹی کھانے پر مجبور فوجی ہلاک مزاحمت کار مقبوضہ کشمیر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوجی فوجی مٹی کھانے پر مجبور فوجی ہلاک مزاحمت کار وی نیوز
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔