بٹگرام: سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
ضلع بٹگرام کے علاقہ نیل بند میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی لاشیں شملائی مندروالی کے مقام سے نکال لی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق 18 افراد کی تلاش کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام کے مطابق نیل بند گاؤں ضلع بٹگرام اور مانسہرہ کی سرحد پر واقع ہے جہاں گزشتہ رات کلاؤڈ برسٹ کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔
اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام کا کہنا ہے کہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں کے باعث 5 مکانات تباہ ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گاڑی میں 6 افراد سوار تھے جن میں سے 2 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کمشنر ہزارہ اور ڈی سی بٹگرام سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے ضلعی حکام کو موقع پر پہنچنے اور ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے بروقت ریسکیو آپریشن یقینی بنایا جائے، تمام وسائل اور افرادی قوت کو بروئے کار لایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افراد کی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔