ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اگست2025ء) سعودی عرب آئل کمپنی آرامکو نے اپنے جعفورہ گیس پروسیسنگ پلانٹس کے حوالے سے گلوبل انفراسٹرکچر پارٹنرز کی زیرقیادت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے کنسورشیم کے ساتھ 11 ارب ڈالر کا لیز اینڈ لیز بیک معاہدہ کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق گلوبل انفراسٹرکچر پارٹنرز (جی آئی پی) بلیک راک کا حصہ ہے جبکہ جعفورہ مملکت سعودی عرب میں سب سے بڑا نان ایسوسی ایٹڈ گیس ڈویلپمنٹ منصوبہ ہے جس میں تقریباً 229 کھرب اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ خام گیس اور 75 ارب اسٹاک ٹینک بیرل کنڈینسیٹ کے ذخائر موجود ہیں، یہ منصوبہ آرامکو کی ان کوششوں کا اہم حصہ ہے جس کے تحت وہ 2021 سے 2030 کے دوران گیس کی پیداوار کی صلاحیت میں 60 فیصد اضافہ کرنا چاہتی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

(جاری ہے)

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایک نئی ذیلی کمپنی جعفورہ مڈاسٹریم گیس کمپنی (جے ایم جی سی ) قائم کی گئی ہے جو جعفورہ فیلڈ گیس پلانٹ اور ریاض این جی ایل فریکشینیشن فیسلٹی کے ترقیاتی و استعمال کے حقوق حاصل کر کے انہیں 20 سال کی مدت کے لیے دوبارہ آرامکو کو لیز پر دے گی، اس کے بدلے میں آرامکو جے ایم جی سی کو ٹیرف ادا کرے گی ۔آرامکو اس نئی کمپنی میں 51 فیصد اکثریتی شیئر کی مالک ہوگی جبکہ باقی 49 فیصد سرمایہ کاروں کے پاس ہوگا جن کی قیادت جی آئی پی کر رہا ہے، یہ معاہدہ آرامکو کی پیداواری مقدار پر کوئی پابندی عائد نہیں کرے گا اور توقع ہے کہ ضابطہ جاتی تقاضے پورے ہوتے ہی جلد مکمل ہو جائے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ