Express News:
2026-06-03@01:05:38 GMT

کتاب سے دوری؛ کیا ہماری تہذیب کے خدوخال مٹ رہے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

یہ کہانی صرف ایک شہر یا ایک گھر کی نہیں، بلکہ پورے پاکستانی معاشرے کی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جہاں ہماری تہذیبی شناخت کی بنیادیں، یعنی ہماری زبان، ہماری تاریخ، ہمارا ادب اور ہماری اقدار، سب کچھ کتابوں سے دوری کی نذر ہو رہا ہے۔ 

ایک وقت تھا جب نئی نسل کے ہاتھوں میں رنگین کتابوں اور کہانیوں کا جہان ہوتا تھا، اور آج ان کے ہاتھ میں ’اسکرین ٹائم‘ کا ایک گمنام ڈیٹا تھما دیا گیا ہے۔ یہ اسکرین، جو بظاہر ہمیں پوری دنیا سے جوڑتی ہے، درحقیقت ہمیں اپنی جڑوں سے کاٹ رہی ہے۔ یہ صرف علم کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری روح کا مسئلہ ہے۔

ہمارے معاشرے کے جو ستون کبھی کتابوں کے سہارے کھڑے تھے، وہ اب ایک ایک کر کے لرز رہے ہیں۔ ان کی لرزش کی آواز آج ہمیں نہیں سنائی دے رہی، لیکن کل جب یہ ستون گریں گے تو ہمیں کچھ بھی بچانے کو نہیں ملے گا۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کا سروے (2023) اس بات کا گواہ ہے کہ ہماری نئی نسل ایک خطرناک فکری انحطاط کا شکار ہے۔ اس سروے کے انکشافات دل دہلا دینے والے ہیں کہ 72 فیصد طلبا سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جعلی خبروں کو بغیر کسی تصدیق کے شیئر کرتے ہیں۔ اور وہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کرتے کہ آیا یہ خبر سچ ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ ’’کتابیں ہمیں غور کرنا سکھاتی تھیں، کتاب خوانی سے دور ہو جانے والے آج کل کے نوجوان ’شیئر بٹن‘ دبانے سے پہلے ’سوچ بٹن‘ استعمال ہی نہیں کرتے‘‘۔

یہ فکری غلامی کی پہلی سیڑھی ہے! یہ حقیقت ہے کہ جب آپ کا ذہن خود سوچنا چھوڑ دیتا ہے تو پھر کوئی اور آپ کے لیے سوچنے لگتا ہے۔ یہ فکری غلامی کی وہ کڑی ہے جو ہمیں اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا رہی ہے۔

کتابوں سے دوری نے ہمارے شناختی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، ہم اپنی تاریخ سے بیگانہ ہو گئے ہیں ہمارے اسلاف کی داستانیں اور بزرگوں کی کہانیاں ڈیجیٹل سیلاب میں بہنے لگی ہیں۔ کتابوں میں لکھی ہماری تاریخ، ہمارے بزرگوں کی وہ داستانیں ہیں جو سینہ بہ سینہ اوراق میں منتقل ہوا کرتی تھیں۔ مگر اب کیا؟

’تہذیبی ورثہ فاؤنڈیشن‘ کی 2024 کی رپورٹ کہتی ہے کہ 18 سے 25 سال کی عمر کے 68 فیصد نوجوان قائداعظم کے 1947 کے تاریخی خطوط سے بالکل ناواقف ہیں۔ انہیں اپنی تاریخ کے ہیروز کی جدوجہد کی کہانیاں بھی معلوم نہیں۔

ممتاز ادیب جمیل الدین عالی نے اپنی وفات سے قبل ’بی بی سی اردو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کتنا سچ کہا تھا ’’ہم نے کتابیں الماریوں میں بند کیں،  اور نوجوانوں نے تاریخ، ٹک ٹاک پر ڈھونڈنی شروع کردی۔ اب ’پاکستان‘ ان کےلیے صرف ایک جیو ٹیگ ہے، جذبات نہیں!‘‘ یہ سچائی دل چیر کر رکھ دینے والی ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو اپنی شناخت سے اتنا دور کر دیا ہے کہ اب وہ اپنا ماضی بھی ڈیجیٹل اسکرین پر تلاش کرتے ہیں۔

زبان کسی بھی تہذیب کی روح ہوتی ہے۔ مگر ہم نے اردو کی رگوں میں زہر گھول دیا ہے۔ اردو لغت بورڈ اسلام آباد کے اعداد و شمار (2023) کے مطابق گزشتہ 20 سال میں اردو کے 60 فیصد محاورے (جیسے ’آنکھ کا تارا‘ یا ’دل کا ٹکڑا‘) نوجوانوں کے ذخیرۂ الفاظ سے غائب ہو چکے ہیں۔ زبان کا وہ شیریں حسن جو کبھی ہماری گفتگو کا حصہ تھا، اب تقریباً ناپید ہوچکا ہے۔

معروف شاعرہ کشور ناہید نے اپنے کالم ’’زبان مر رہی ہے‘‘ میں یہ سچ بڑی بے باکی سے لکھا تھا کہ ’’جب نوجوان لڑکی اپنے محبوب کو ’آئی لوو یو‘ لکھتی ہے تو سمجھ لیں کہ میرؔ کی غزلیں اور غالبؔ کے خطوط ہماری اجتماعی یادداشت سے رخصت ہوچکے!‘‘ یہ صرف الفاظ کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری زبان کی خوبصورتی اور اس کے ساتھ جڑی ہوئی پوری تہذیبی تاریخ کا زوال ہے۔

کتابوں سے دوری کے باعث ہمارے تخیل کی موت ہونے لگی ہے اور اسکرین ٹائم نے ہمارے خواب بھی چرا لیے ہیں۔ تخیل وہ قوت ہے جو، انسان کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ مگر جب انسان کو سوچنے کا موقع ہی نہ ملے تو تخیل کیسے جنم لے گا؟ 

نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) لاہور کے طلبا کے پورٹ فولیو کا تقابلی جائزہ (2010 vs 2024) واضح طور پر دکھاتا ہے کہ ادبی حوالوں پر مبنی تخلیقی کاموں میں 70 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ نوجوان اب کتابوں سے متاثر ہوکر نئے جہان تخلیق نہیں کر رہے۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ ملک نے اپنی تحقیق ’’ڈیجیٹل ایج اینڈ دی ڈسکنیکٹڈ مائن‘‘ میں اس صورتحال کا درست تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کتابیں بچوں کو خواب دکھاتی تھیں، اور اب موبائل نے انہیں ’کنٹینٹ کنزیومرز‘ بنا دیا ہے۔ مقام فکر یہ ہے کہ جس نسل کا تخیل مار دیا جائے، وہ نسل تہذیب، تمدن اور اخلاقی اقدار کی آبیاری کیسے کر پائے گی؟‘‘ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو کس قسم کے مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

کتابوں سے دوری کا ایک نتیجہ سماجی دیوالیہ پن اور خاندان کا بکھراؤ بھی ہے۔ خاندان کسی بھی معاشرے کی سب سے بنیادی اکائی ہے۔ مگر یہ اکائی بھی بکھرتی جارہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کا لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے 500 خاندانوں پر کیا گیا سروے بتاتا ہے کہ 89 فیصد گھرانوں میں شام کی وہ اجتماعی سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں جہاں کہانی سنانے، مباحثے کرنے اور اکٹھے وقت گزارنے کا رواج تھا۔

اور اب آپ ذرا اس منظر کو تصور کیجیے کہ سردی کی ایک شام، اسلام آباد کے ایک عالیشان بنگلے میں چار افراد۔ والد صاحب اخبار پڑھ رہے ہیں، ماں ٹی وی دیکھ رہی ہے، بیٹا موبائل گیم کھیل رہا ہے، اور بیٹی انسٹاگرام کی رییلز بنا رہی ہے۔ چاروں ایک ہی کمرے میں ہیں، مگر چار الگ دنیاؤں میں قید ہیں۔ یہ صرف ایک بنگلے کا منظر نہیں، یہ ہر اس گھر کا منظر ہے جہاں ’کتاب‘ کی جگہ ’اسکرین‘ نے لے لی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کا 2024 کا ڈیٹا کہتا ہے کہ ایک اوسط پاکستانی روزانہ پانچ گھنٹے ٹک ٹاک استعمال کرتا ہے، جبکہ مطالعے کا وقت محض 12 منٹ رہ گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار کسی خوفناک خواب سے کم نہیں۔ یہ ڈیجیٹل یلغار ہماری تہذیب کے خلاف ایک خاموش سازش ہے، جس کا ہمیں ادراک ہی نہیں۔

اور یہ کتنا کرب انگیز ہے کہ ہم رات سونے سے پہلے کسی کتاب کے چند اوراق پڑھنے کے بجائے سیکڑوں ’شارٹ ویڈیوز‘  ضرور دیکھتے ہیں ورنہ نیند نہیں آتی۔

کتابوں سے دوری پر فکر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کتابیں مہنگی بہت ہو گئی ہیں۔ یہ بھی سچ ہے مگر ’بات ہے رسوائی کی‘، کتابوں کے پبلشر اب ڈیجیٹل کتابوں کی دنیا میں قدم رکھنے کےلیے پر تول رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ کتاب خوانی کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لیے معاشرتی، تہذیبی اور ریاستی سطح پر اس مسئلے کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ’خواندگی مارچ‘ اور موبائل فری لائبریریاں قائم کرنے کے پروجیکٹ فائلوں کا پیٹ تو بھرتے رہیں گے۔ پنجاب کے 100 اسکولوں میں ’30 منٹ بک ریڈنگ‘ کا لازمی قرار دیا جانا بھی ایک اچھا آغاز ہے۔ کتابیں سستی کرو۔ الماری کھولو، کتابیں نکالو! اور بچوں کے سامنے بیٹھ کر کتابیں پڑھو۔ بصورت دیگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو تہذیب کے کھنڈرات بھی دے کر نہیں جائیں گے؟

ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں کہ زبان کی شیریں شاعری کو ’میمرز‘ نے کھا لیا ہے، تاریخ کے اوراق ’وائرل نیوز‘ بن گئے ہیں، اور رشتوں کی گہرائی ’اسٹیٹس اپ ڈیٹس‘ میں ڈوب گئی ہے۔

جیسے فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے،  اسی طرح ہماری تہذیب کو ’موبائل‘ لگ گیا ہے، الماریوں میں بند کتابیں چلّا رہی ہیں ’’ہمیں زندہ رکھو، ورنہ تمہیں زندہ نہیں رکھا جائے گا!‘‘
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کتابوں سے دوری ہماری تہذیب ہے کہ ہم ہم اپنی رہے ہیں رہی ہے دیا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا