حکومت کو آئی ایم ایف کی بجائے ملک کی 40 امیر ترین شخصیات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست 2025ء ) حکومت کو آئی ایم ایف کی بجائے ملک کی 40 امیر ترین شخصیات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دے دیا گیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں چیئرمین اکنامک پالیسی بزنس ڈیولپمنٹ بورڈ گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی بلین ڈالرز ملکیتی 40 امیر ترین شخصیات کی رپورٹ جاری کر دی ہے، پاکستان میں پبلک اورپرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والے یہی لوگ ہیں۔
سابق نگران وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کی بجائے ان لوگوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہی لوگ اربوں کا ٹیکس اور عوام کو روزگار دیتے ہیں، حکومت نے ان لوگوں کا ایک ہاتھ باندھ رکھا ہے یہ پھر بھی کاروبار کر رہے ہیں، یہی لوگ ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار لا سکتے ہیں، حکومت بیرونِ ملک دوروں پر وزراء اور سیکریٹریز کے بجائے ان افراد کو ساتھ لے کر جائے۔(جاری ہے)
حال ہی میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے ملک کی اہم کاروباری شخصیات نے راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں آرمی چیف کو ملکی معیشت کے موجودہ حالات اور مستقبل کے معاشی چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، ملاقات کرنے والے وفد کی قیادت سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کی ان کے ساتھ وفد میں دیگر اہم کاروباری شخصیات بھی شریک ہوئیں جن میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد، ایس ایم تنویر اور ایف پی سی سی آئی و لاہور چیمبر کے صدور شامل تھے۔ بتایا گیا تھا کہ آرمی چیف سے ملاقات کے دوران گوہر اعجاز نے فیلڈ مارشل کو بتایا کہ کاروباری برادری موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہے اور وہ اس بات کی خواہاں ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے مزید کاروباری آسانیاں فراہم کی جائیں تاہم معیشت میں استحکام کی اہمیت کے پیش نظر حکومت کو معاشی اصلاحات کے عمل میں تیز رفتار اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، معاشی اصلاحات کے لیے کاروباری آسانیاں بھی پیدا کی جائیں ۔ گوہر اعجاز نے اس موقع پر کہا کہ شرح سود کو مہنگائی کے تناسب سے کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکیں، وفاقی بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری کے تحفظات کو دور کرنے انتہائی ضروری ہے، حکومت کو اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات پر مبنی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے، ملکی کپاس کی صنعت اور کسانوں کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ زرعی معیشت میں بھی بہتری لائی جا سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گوہر اعجاز نے کی ضرورت ہے حکومت کو
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔