خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر و وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا ہے کہ صوبے کے بالائی اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے اور صوبائی حکومت تمام تر وسائل ہنگامی صورت حال میں استعمال کر رہی ہے جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم وفاقی ادارہ این ڈی ایم اے صرف صوبے کے لیے الرٹ جاری کرنے تک محدود ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں آفتاب عالم نے صوبے میں سیلاب کی صورت حال، ہیلی کاپٹر حادثہ، امدادی سرگرمیوں اور حکومتی پیشگی تیاریوں پر تفصیلی بات کی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت میں طوفانی بارشوں سے تباہی، 200 سے زیادہ اموات، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

آفتاب عالم نے بتایا کہ صوبے کے بالائی علاقوں میں ایمرجنسی حالات ہیں اور کلاؤڈ برسٹ کے ساتھ مسلسل بارشوں سے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں جہاں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے حکومت تمام تر وسائل استعمال کر رہی ہے تاہم بدقسمتی سے امدادی سرگرمیوں کے دوران صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے قائم وفاقی ادارے کا خیبر پختونخوا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے صرف صوبے کے لیے الرٹ جاری کرنے تک محدود ہے۔

آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی ادارے مکمل طور پر تیار تھے اور ان حالات میں بروقت امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ بونیر، باجوڑ اور بٹگرام میں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت متاثرین کے ساتھ ہے اور ہر ایک فرد تک پہنچے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اولین ترجیح پھنسے ہوئے اور زخمی افراد کو ریسکیو کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے جانے والا سرکاری ہیلی کاپٹر تباہ، 5 افراد شہید

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے امدادی سرگرمیوں کے لیے 2 ہیلی کاپٹر استعمال کیے جن میں سے ایک کریش کر گیا۔

آفتاب عالم کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور خود سیلابی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ہر قسم کی امداد کرے گی اور تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوال پر آفتاب عالم نے بتایا کہ ایمرجنسی لگانے کا اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس ہے تاہم حکومت کی ترجیح فی الحال سیلابی صورت حال سے نمٹنا ہے جو جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کے بعد متاثرین کی بحالی پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں اور زخمیوں کے بہتر علاج اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

متاثرہ علاقوں کی صورتحال

آفتاب عالم کے مطابق بونیر، باجوڑ، بٹگرام اور دیر زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اموات بونیر میں ہوئیں جو 91 ہیں، باجوڑ میں 18، دیر میں 5، بٹگرام میں 10 اور مانسہرہ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ سوات میں بھی کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

بونیر سے تعلق رکھنے والے عارف خان نے وی نیوز کو بتایا کہ پیر بابا میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے اور پورا گاؤں متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں بروقت امدادی سرگرمیاں نہ پہنچنے کے باعث کئی افراد سیلاب میں بہہ گئے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث جانی نقصان، صوبائی حکومت کا کل یوم سوگ منانے کا اعلان

عارف خان نے کہا کہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ کسی کوپتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور پانی کہاں سے آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے ضلع میں سوگ کا سماں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ڈی ایم اے خیبر پختونخوا سیلاب وزیر قانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: این ڈی ایم اے خیبر پختونخوا سیلاب وزیر قانون خیبرپختونخوا ا فتاب عالم امدادی سرگرمیوں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ا فتاب عالم نے صوبائی حکومت ڈی ایم اے نے بتایا کہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر میں سیلاب صورت حال ہوئے ہیں صوبے کے تھا کہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری