کشمیری رہنما یاسین ملک کی جان خطرے میں، 13 سالہ بیٹی کی عالمی برادری سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
سری نگر: کشمیری حریت پسند رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک کی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطان نے عالمی برادری سے اپنے والد کی جان بچانے کی اپیل کی ہے۔
رضیہ سلطان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت ان کے والد کو صرف کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے کی سزا دے رہی ہے اور کچھ دنوں میں انہیں پھانسی دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے امریکا، چین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی برادری نے خاموشی اختیار کی تو بھارت ان کے والد کو سزائے موت دے دے گا۔
یاسین ملک اس وقت بھارت کی جیل میں قید ہیں جہاں وہ 34 سال پرانے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
انہیں 2019 میں سری نگر سے گرفتار کیا گیا تھا اور دورانِ قید ان پر کئی بار تشدد بھی کیا گیا جس کے باعث ان کی صحت بگڑ گئی اور انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔