خیبر پختونخوا :حادثے کاشکارہیلی کاپٹرکا بلیک باکس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں حالیہ سیلاب کے دوران ریسکیو مشن پر مامور ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے جائے حادثہ کے قریب سے ہیلی کاپٹر کابلیک باکس برآمد کر لیا ہے، جو کہ کسی بھی فضائی حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے نہایت کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بلیک باکس کہاں سے ملا؟
سرکاری ذرائع کے مطابق بلیک باکس جائے حادثہ سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر ملا۔ پولیس نے فوری طور پر اسے تحویل میں لے کر متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ تکنیکی تجزیے کے بعد حادثے کی وجوہات سامنے آ سکیں۔
چوری کی کوشش ناکام، 2 افراد گرفتار
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب ریسکیو ٹیمیں اور سیکیورٹی ادارے جائے حادثہ پر تحقیقات میں مصروف تھے، کچھ افراد نے اس موقع کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جو ہیلی کاپٹر کے ملبے سے سامان چرا کر موٹر سائیکل پر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت یاسین ولد تسری اور باسط ولد چمن خان کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ دریاب کورونہ میچنی کے رہائشی ہیں۔ پولیس نے ان سے تمام چوری شدہ سامان برآمد کر کے محفوظ کر لیا ہے۔
پولیس اور فورسز کی مشترکہ کارروائی
یہ کامیاب کارروائی ڈی پی او مہمند اکرام اللہ کی ہدایت پر ڈی ایس پی مہمند ڈیم جاوید خان کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ اس آپریشن میں اے ایس آئی جان عالم خان ، مہمند ڈیم پولیس ، ایلیٹ فورس اور 201 ونگ ایف سی کے اہلکار شامل تھے، جنہوں نے چوری کی کوشش ناکام بنا کر پیشہ ورانہ مستعدی کا مظاہرہ کیا۔
جائے حادثہ پر سخت نگرانی
جائے حادثہ کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔ فرنٹیئر کور اور مقامی پولیس کے اہلکار 24 گھنٹے وہاں تعینات ہیں تاکہ نہ صرف حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں بلکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔
ضلعی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی جگہ کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جا رہا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ تحقیقات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔