سٹی 42 : پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی مایوس کن ہے  تین دن گزرنے کے باوجود شانگلہ کا دیگر اضلاع سے رابطہ بحال نہ ہو سکا، اگر حکومت نے سڑکیں بحال نہ کیں تو ذاتی خرچ پر راستے کھلواؤں گا۔ 

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے شانگلہ کے دور کے موقع سیلاب متاثرین سے گفتگو کے دوران کیا، کہا کہ وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔  وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام نے شانگلہ کے دورہ کے دوران سیلاب متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا، کہا کہ سیلاب سے شانگلہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ انہوں نے شانگلہ کے عوام سے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے تعزیت کا پیغام بھی دیا۔ 

پاک بھارت جنگ کے واقعات کا عینی شاہد ؛ بھارت کی ہر حرکت وقت سے پہلے ہمارے پاس تھی؛ محسن نقوی

 امیر مقام نے کہاکہ کسانوں کی فصلیں، گاڑیاں، اور گھریلو سامان پانی میں بہہ گیا، شانگلہ میں کئی پل اور سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی مایوس کن ہے  تین دن گزرنے کے باوجود شانگلہ کا دیگر اضلاع سے رابطہ بحال نہ ہو سکا،  اگر حکومت نے سڑکیں بحال نہ کیں تو ذاتی خرچ پر راستے کھلواؤں گا۔ 

انجینئرامیر مقام نے وفاقی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا وعدہ کیا، کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی جلد ممکن ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے صوبائی امدادی رقم 10 لاکھ مقرر  کی گئی ہے، جسے ڈبل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت شام تک پہاڑی علاقوں کی سڑکیں بحال کرے، وزیراعلیٰ نے نقصانات کے مکمل ازالے کا وعدہ کیا، اگر صوبائی حکومت ناکام ہوئی تو وفاقی حکومت مدد کرے گی۔ 

متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے؛ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین سڑکیں بحال انہوں نے بحال نہ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع