خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متاثرینِ سیلاب میں پاک فوج کی راشن کی تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
سیلاب سے متاثرہ خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے مینگورہ کے متاثرین میں راشن تقسیم کیا گيا۔
مانسہرہ، نیل بان اور بٹگرام کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، متاثرین میں دودھ اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی گئيں، میڈيکل کیمپ میں 100 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
بونیر سے ابتک 274 افراد کی لاشیں نکالی جا چکیںترجمان ریسکیو بونیر کا کہنا ہے کہ تحصیل گدیزی قدرنگر سے مزید 7 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، لاشوں کو ٹی ایچ کیو اسپتال پاچا منتقل کیا گیا۔
متعلقہ سڑکیں بھی کلیئر کر دی گئيں، پاک فوج نے گلگت بلتستان میں سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر باغیچہ روڈ صرف 18 گھنٹوں میں بحال کر دیا۔
گلگت بلتستان کے گاؤں ٹیرو میں پاک فوج کا فیلڈ اسپتال قائم کیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کی ٹیم مقامی افرادک و 24 گھنٹےطبی سہولتیں فراہم کرے گی، راستوں کی بندش کے باعث مقامی آبادی کو صحت کے مسائل کا سامنا تھا، ڈاکٹروں کی ٹیم نے متاثرہ مریضوں کا معائنہ کر کے انہیں ادویات فراہم کیں۔
ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4 شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، پاک فوج کی جانب سے متاثرین میں راشن کے تھیلے بھی تقسیم کیے گئے، راشن میں آٹا، چاول، دالیں، پینے کا پانی اور دیگر اشیائے خور و نوش شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان پاک فوج
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔