لاہور، یزیدیت شکن و صیہونیت ستیز اربعین حسینی 23 اگست کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اربعین حسینی کے کامیاب انعقاد کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔شام 4 بجے شروع ہونیوالی تقریب رات گئے تک جاری رہے گی۔ علامہ سید جواد نقوی شرکاء سے اظہار خیال بھی کریں گے اور یزیدیت شکن اربعین کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ یزیدیت شکن وصیہونیت ستیز اربعین حسینی 23 اگست کو ہوگا۔ اربعین کی مرکزی تقریب 28 صفرالمظفر کو شام 4 بجے شروع ہوگی۔ تقریب میں تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی میزبانی کریں گے، جبکہ ایونٹ میں ملک بھر سے معروف نوحہ خواں اور ماتمی دستے ماتم و نوحہ خوانی کریں گے۔ اربعین حسینی کی تقریب جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں ہوگی۔ اربعین حسینی کے کامیاب انعقاد کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔شام 4 بجے شروع ہونیوالی تقریب رات گئے تک جاری رہے گی۔ علامہ سید جواد نقوی شرکاء سے اظہار خیال بھی کریں گے اور یزیدیت شکن اربعین کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یزیدیت شکن کریں گے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔