اسلام آباد:

قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں شہلا رضا نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران پر سنگین الزامات عائد کردیے۔

قومی اسمبلی کی قاٸمہ کمیٹی برائے بین الصوباٸی رابطہ کا اجلاس ثنا اللہ مستی خیل کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن  کی مالی بےضابطگیوں، کھلاڑیوں کو ڈیلی الاؤنسز کی عدم اداٸیگی کا جاٸزہ لیا گیا، طلبی پر صدر پی ایچ ایف طارق بگٹی، سیکرٹری رانا مجاہد، کپتان عماد بٹ، سیکرٹری آٸی پی سی محی الدین وانی اجلاس میں شریک ہوئے۔

قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر ذیلی کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی، شیخ آفتاب احمد کو ذیلی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ارکان میں خواجہ اظہار، سیدہ شہلا رضا، یوسف خان، انجم عقیل، رسول بخش خان، سید وسیم قادر، مہرین رزاق بھٹو ذیلی کمیٹی کے اراکین ہوں گے۔

کمیٹی وزارت قانون، اٹارنی جنرل، وزارت آٸی پی سی سے معاونت لے گی، پی ایچ ایف صدر طارق بگٹی، سیکرٹری رانا مجاہد کمیٹی کو مالی معاملات پر بریفنگ دیں گے، ذیلی کمیٹی 30 روز میں قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔ ذیلی کمیٹی فیڈریشن کی باڈی کی قانونی حیثیت، مالی معاملات کا جائزہ لے گی۔

سیکرٹری پی ایچ ایف نے کمیٹی ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ نگران وزیراعظم نے طارق بگٹی کو فیڈریشن کا صدر نامزد کیا تھا۔ چیئرمین کمیٹی ثنا اللہ مستی خیل نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے پاس یہ اختیار نہیں تھا، نگران وزیراعظم کے پاس صرف ڈے ٹو ڈے اختیار تھا۔

چیئرمین کمیٹی نے طارق بگٹی کی نامزدگی قانونی یا غیرقانونی ہونے سے متعلق اٹارنی جنرل، سیکرٹری قانون سے  رائے مانگ لی۔ کمیٹی نے نگران وزیراعظم کے اختیارات کا معاملہ وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔

چیئرمین نے کہا کہ قانونی رائے کی روشنی میں کمیٹی فیصلہ کرے گی، اگر دونوں اداروں نے اقدام غیر آٸینی قرار دیا تو صدر پی ایچ ایف کو فوراً عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ کمیٹی کے  آئندہ اجلاس میں رانا ثنا اللہ شرکت نہیں کی تو اجلاس نہیں ہوگا۔

پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی اور سیکریٹری رانا مجاہد نے کہا کہ نگران وزیراعظم نے تین کروڑ، وزیراعظم  شہباز شریف نے چھ کروڑ گرانٹ دی، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایک کروڑ تیس لاکھ فنڈز دیے، ہم فوج کے تعاون سے پہلی پاکستان ہاکی لیگ کروانے جا رہے ہیں، رانا مجاہد نے کہا کہ پاکستان ہاکی لیگ کے انعقاد کیلٸے ونڈو نہیں مل رہی۔

اجلاس میں شہلا رضا نے ہاکی فیڈریشن کے عہداران پر سنگین الزامات لگائے، پی ایچ ایف کے اکاؤنٹ سے کیش پیسے نکلوائے گئے، آصف باجوہ کے برادر نسبتی کی کمپنی میں پیسے گئے، یہ ساری فائلیں ہمارے پاس موجود ہیں تو اسپورٹس بورڈ کے پاس کیوں نہیں۔ سیکرٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد کی تعیناتی بھی غیر آئینی ہے میں یہ ثابت کرسکتی ہوں۔

شہلا رضا نے کہا کہ پاکستان 17 ویں یا 18 ویں نمبر کی ٹیموں سے جیت کر 15 ویں نمبر پر آئی ہے اور ٹاپ ٹین والی پرو ہاکی لیگ میں شرکت کرنے جارہی ہے۔ کمیٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے میرٹ پر کوالیفائی نہیں کیا، ہم نیوزی لینڈ کی خیرات میں چھوڑی ہوئی جگہ پر کھیلنے جارہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جس نے ہاکی فیڈریشن کا ایک روپیہ بھی کھایا ہے میں وہ واپس لوں گا، کسی کو نہیں چھوڑیں گے، ایک طرف کہا جارہا ہے کہ مالی بدعنوانی ہوئی دوسری طرف سے کہا جارہا ہے مالی بدعنوانی نہیں ہوئی، ہاکی فیڈریشن کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے۔

رانا مجاہد نے کہا کہ پرو لیگ بہت بڑا ایونٹ ہے، اس میں دنیا کی 10 بہترین ٹیمیں حصہ لیتی ہیں، سیکٹری آئی پی سی محی الدین وانی نے کہا کہ پرو لیگ میں شرکت کے لیے 35 کڑوڑ روپے درکار ہیں۔ پاکستان ہاکی ٹیم پرو لیگ میں شرکت کرے گی۔ 25 کروڑ وزارت خزانہ دے گی اور 10 کڑوڑ روپے سپانسر شپ کے زریعے حاصل کیے جائیں گے۔

 سیکٹری جنرل پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے کہا کہ میں نے 10 سال قومی ہاکی ٹیم کی خدمت کی ہے، میں  ورلڈ چیمپئن ٹیم کا حصہ بھی رہا ہوں ، میرا ایک طویل کیرئر ہے، اس کے بعد میں یہاں بطور سیکٹری جنرل تعینات ہوا ہوں، ہمارے پاس کوئی ایسٹس نہیں ہیں جس سے ہم ریونیو جنریٹ کر سکیں۔

 صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ ہمیں 2 سال قبل تک پاکستان اسپورٹس بورڈ 35 لاکھ ماہانہ دیا کرتا تھا ، جو اب نہیں دے رہا، ہمیں 3 کروڑ انوار الحق کاکڑ نے گرانٹ دی پھر 2024 میں وزیراعظم شہباز شریف نے 5 کڑوڑ گرانٹ دی، ایک کروڑ 30 لاکھ فیلڈ مارشل کی جانب سے دیا گیا۔

رانا مجاہد نے کہا کہ نومبر یا فروری میں قومی ہاکی لیگ کے انعقاد کا سوچ رہے ہیں، ہاکی فیڈریشن کا پیٹرن ان چیف وزیر اعظم ہے، ہاکی فیڈریشن کے صدر کو وزیر اعظم تعینات کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کے قائمہ کمیٹی ذیلی کمیٹی فیڈریشن کا طارق بگٹی اجلاس میں ہاکی لیگ شہلا رضا

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف