شہر قائد کے علاقے رضویہ سوسائٹی میں ڈکیتی اور شہری کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو پولیس نے 15 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا۔

ترجمان ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب رضویہ سوسائٹی میں شہری علی حسن وارثی کو دوران ڈکیتی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

واردات کا مقدمہ الزام نمبر 310/2025 جرم دفعہ 397/34 رضویہ سوسائٹی تھانہ میں درج کیا گیا۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی نے شہری پر تشدد اور ڈکیتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی لیاقت آباد ڈویژن، ایس ڈی پی او ناظم آباد اور ایس ایچ او تھانہ رضویہ سوسائٹی کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے سخت احکامات دیے تھے۔

پولیس نے موقع سے شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کاروائی کا آغاز کیا اور صرف 15 گھنٹوں کے اندر ملزم کاشف ولد کریم سعید کو گرفتار کر لیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم عادی جرائم پیشہ ہے اور اس سے قبل متعدد بار پولیس مقابلہ، ناجائز اسلحہ اور منشیات کے مقدمات میں اورنگی ٹاؤن، عزیزآباد، منگھوپیر اور شاہراہِ نور جہاں سے گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے۔

ترجمان ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

 ترجمان 
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی PPM, PSP

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رضویہ سوسائٹی ایس ایس پی

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں