آسٹریلیا میں پولیس ٹیم پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے ایک دیہی علاقے میں پولیس ٹیم پر فائرنگ کے واقعے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ آسٹریلیا کے دیہی علاقے پورےپنکا (Porepunkah) میں پیش آیا جہاں 10 اہلکار سرچ وارنٹ لیکر پہنچی تھی۔
بھاری اسلحے سے لیس اور انتہائی خطرناک ملزم نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور حملے کے بعد جنگل میں بآسانی فرار ہوگیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 59 سالہ ڈیٹیکٹیو اور 35 سالہ سینیئر کانسٹیبل موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور اہلکار کی ٹانگوں پر گولیاں لگیں جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔
وکٹوریہ پولیس کمشنر مائیک بش نے مرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بہادر افسر ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں قربان کر گئے۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق پولیس کو شبہ ہے کہ حملہ آور ’’سویورن سٹیزن‘‘ (Sovereign Citizen) نظریات رکھنے والا شخص ہے جو حکومت کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔
مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔