غزہ میں اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلئے 44 ممالک کی مشترکہ مہم ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
برسلز: اسرائیلی محاصرے اور عالمی حکومتوں کی خاموشی کے بعد اب دنیا بھر کی سول سوسائٹی میدان میں آ گئی ہے۔
رواں ماہ کے آخر میں مختلف ممالک سے درجنوں کشتیاں غزہ کی طرف روانہ ہوں گی تاکہ محصور فلسطینی عوام تک براہِ راست انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔
یہ مہم "گلوبل صمود فلوٹیلا" کے نام سے چلائی جا رہی ہے، جو 44 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ کچھ کشتیاں 31 اگست کو اسپین سے روانہ ہوں گی جبکہ دیگر 4 ستمبر کو تیونس سے نکلیں گی۔
اس اتحاد میں تین بڑے عالمی اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے: فریڈم فلوٹیلا کولیشن، گلوبل موومنٹ فار غزہ اور مغرب صمود قافلہ۔ ان سب کا مقصد اسرائیل کے سمندری، فضائی اور زمینی محاصرے کو توڑنا اور انسانی جانیں بچانے کے لیے خوراک و ادویات پہنچانا ہے۔
اس عالمی اپیل کو سیاستدانوں، فنکاروں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ان میں مشہور نام شامل ہیں: گریٹا تھنبرگ، مارک رفالو، سوزن سرنڈن، لیام کننگھم، جبکہ اٹلی کے کئی بڑے فنکار اور فلمی شخصیات نے بھی کھل کر اس کا ساتھ دیا ہے۔
وینس فلم فیسٹیول کے موقع پر اطالوی فنکاروں نے ایک کھلا خط لکھ کر اس "نسل کشی" کے خلاف آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔
"صمود" عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے مزاحمت اور برداشت۔ یہ مہم پرامن اور عدم تشدد پر مبنی ہے، جس کے ذریعے عالمی برادری اسرائیل کے مظالم کے خلاف سول نافرمانی اور اجتماعی احتجاج کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
پاکستان بھی صمود فلوٹیلا کا حصہ ہے۔ پاکستانی وفد میں ڈاکٹرز، میڈیا پروفیشنلز اور سماجی رہنما شامل ہیں، جن کا مقصد غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کو اجاگر کرنا اور انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی افواج کے تازہ فضائی حملے میں خان یونس کے ناصر اسپتال پر بمباری کی گئی جس میں کم از کم 20 افراد شہید ہوئے، جن میں پانچ صحافی بھی شامل تھے۔ اسرائیل نے "ڈبل ٹیپ" نامی حربہ استعمال کیا، جس میں پہلے حملے کے بعد امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے دوسرا حملہ کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان ہو چکا ہے اور 20 لاکھ سے زائد لوگ بھوک اور موت کے دہانے پر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے اسرائیل کی کارروائیوں کو "نسل کشی" قرار دے رہے ہیں، تاہم مغربی حکومتوں کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔