ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ کو تیز رفتاری پر جرمانہ، قوم سے معافی مانگنی پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
انقرہ(ویب ڈیسک)ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر یورالوغلو نے اپنی تیز رفتار ڈرائیونگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو دیکھی جانے کے بعد انہیں جرمانہ کردیا گیا، ویڈیو میں وہ 225 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہے تھے، جو قانونی حد سے تقریباً دوگنا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وزیرعبدالقادر کی گاڑی اناطولیہ کی مشہور انقرہ موٹروے پر دیگر گاڑیوں کو تیزی سے پیچھے چھوڑتی ہوئی اسپیڈ میں آگے بڑھ رہی تھی، جب کہ پس منظر میں ترک لوک موسیقی اور صدر رجب طیب اردگان کی تقریر کے کچھ حصے چل رہے تھے، جن میں حکومت کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعریف کی گئی تھی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹریفک پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر عبدالقادر پر 9,267 ترک لیرا یعنی تقریباً 280 ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ خلاف ورزی انقرہ کے قریب تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ریکارڈ ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد وزیرِ ٹرانسپورٹ نے خود اپنی خلاف ورزی کے چالان کی تصویر پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی اور لکھا، ’اپنی قوم سے معذرت خواہ ہوں۔‘
Sayın bakan Abdulkadir Uraloğlu 223 km hızla giderken görüntü vermiş
1-) Devlet adamı Millete örnek olmalı trafik kurallarınada mutlak uymalıdır
2-) O kadar hız Allah muhafaza çok tehlikelidir
3-) Vatandaş geçim derdindeyken chp’liler gibi milyonluk araçlarla caka satmak olmamış pic.
— Murat Şahin (@muratsahin2023) August 26, 2025
یاد رہے کہ ترکی میں ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 140 کلومیٹر فی گھنٹہ (87 میل فی گھنٹہ) ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال کے دوران ملک بھر میں لگ بھگ 15 لاکھ ٹریفک حادثات ہوئے جن میں 6,351 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
فیس بک نے صارفین کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے کے لیے ٹک ٹاک جیسا نیا فیچر آزمائش کے لیے پیش کیا ہے، جس میں ایپ کھولتے ہی فل اسکرین ویڈیوز دکھائی جائیں گی۔ یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا فیس بک اور انسٹاگرام کی لت کے خلاف بڑا ایکشن، بھاری جرمانے کی دھمکی
میٹا کے مطابق فیس بک ایپ کے سربراہ ٹام ایلیسن نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی ایک نئی ‘دوبارہ تشکیل دی گئی تجرباتی سہولت’ کی آزمائش کرے گی، جس کے تحت صارفین کو روایتی فیڈ کے بجائے براہ راست عمودی ویڈیوز کی فیڈ نظر آئے گی۔
نئے تجربے میں صارفین کو الگورتھم کے ذریعے منتخب کی گئی ویڈیوز مسلسل دکھائی جائیں گی، جو ٹک ٹاک کے ‘فور یو’ فیڈ سے مشابہ ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلی فیس بک کے روایتی انداز سے ایک بڑا انحراف ہو سکتی ہے، کیونکہ اب تک پلیٹ فارم پر دوستوں، خاندان اور پیجز کی پوسٹس مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک نے مونیٹائزیشن مزید آسان بنا دی، پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ڈالرز میں کمائی کے نئے مواقع
میٹا پہلے بھی حریف پلیٹ فارمز کے مقبول فیچرز کو اپناتا رہا ہے۔ 2016ء میں اس نے اسنیپ چیٹ کی ‘اسٹوریز’ کو انسٹاگرام میں شامل کیا، جبکہ بعد میں ٹک ٹاک کے مقابلے کے لیے ‘ریلز’ متعارف کرائی گئیں۔
کمپنی نئے فیچر کو پہلے منتخب عالمی مارکیٹوں میں آزمائے گی، جس کے نتائج حوصلہ افزا ہونے کی صورت میں اسے امریکا سمیت دیگر ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق فیس بک کا یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ پلیٹ فارم کے موجودہ صارفین کی بڑی تعداد عمر رسیدہ ہو رہی ہے، جبکہ نوجوان صارفین کی بڑی تعداد ٹک ٹاک پر منتقل ہو چکی ہے اور روزانہ طویل وقت ویڈیوز دیکھنے میں گزار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
تاہم فیس بک کے لیے یہ حکمت عملی خطرات سے خالی نہیں، کیونکہ بہت سے صارفین اب بھی دوستوں اور خاندان سے رابطے کے لیے فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیوز پر زیادہ توجہ دینے سے ممکن ہے کہ کچھ پرانے صارفین پلیٹ فارم سے دور ہو جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزمائش ٹک ٹاک فل اسکرین ویڈیو فیس بک