اے این ایف صرف ایک ماہ دل لگا کر کام کرلے تو پاکستان سے منشیات ختم ہوجائے، قائمہ کمیٹی داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا ہے کہ کالج اور جامعات میں بچے بچیاں منشیات استعمال کررہے ہیں، اے این ایف صرف ایک مہینہ دل لگا کر کام کرلے تو ملک سے منشیات ختم ہوسکتی ہے یہ ہماری آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت راجہ خرم نواز نے کی۔
اے این ایف کے افسر بریگیڈئیر عمران علی نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ ملک میں پانچ ریجنل ڈائریکٹوریٹ ہیں، 27 تھانے ہیں، 7 ری ہیبلیٹیشن سینٹر ہیں جن میں سے پانچ سندھ میں ہیں۔
چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں بے تحاشا منشیات فروشی ہے، کالجز، یونیورسٹیوں میں بک رہی ہے یہ بتائیں یہ منشیات کہاں سے آرہی ہے؟ پہلے تو ہم کہتے تھے افغانستان سے آتی ہے، یہ بتائیں یونیورسٹیوں میں جس طرح منشیات بیچی جارہی ہے، اسلام آباد میں منشیات فروش اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ انہوں نے ایک کونسلر کو قتل کردیا۔
حاجی جمال شاہ رکن کمیٹی نے کہا کہ منشیات پاکستان کے ہر گھر کا مسئلہ بن چکا ہے، یہ ایک مافیا ہے جو بڑے گھروں کو ٹارگٹ کرتے ہیں، نوجوان نسل خراب ہورہی ہے، کالجوں، یونیورسٹیوں میں منشیات موجود ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہر گلی میں منشیات ہے، پورے پاکستان میں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں منشیات مل رہی ہے، 32 ادارے منشیات کے خاتمے کیلئے کام کررہے ہیں ان کی پرفارمنس کیا ہے؟ زمینی حقائق کیا ہیں، یہاں آئس کی پارٹیاں کھلے عام ہورہی ہیں اور ہر پارٹی میں منشیات سرعام مل رہی ہے۔
رکن کمیٹی قادر پٹیل نے کہا کہ منشیات بلوچستان اور سندھ سے آتی ہے ان دو علاقوں کے بارڈرز کو محفوظ بنایا جائے، اسکولوں کالجوں کے بچے واٹس ایپ کے ذریعے منشیات منگواتے ہیں، موٹرسائیکل سوار لوگ آتے ہیں اور گھروں پر منشیات ڈیلیور کرکے جاتے ہیں۔
رکن کمیٹہ نوشین فاطمہ نے کہا کہ ری ہیب سینٹرز کو کون مانیٹر کرتا ہے؟ رکن کمیٹی میر جمال خان نے کہا کہ بارڈرز پر تمام ادارے موجود ہونے کے باوجود منشیات کیوں آرہی ہے؟
بریگیڈئیر عمران علی نے کہا کہ وزیراعظم آفس سے ہدایت کی گئی کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کو روکا جائے، ہم نے ایچ ای سی اور اداروں کے ساتھ مل کر مہم چلائی، ہم نے 263 تعلیمی اداروں کے اردگرد لوگوں میں کام کیا، ان تعلیمی اداروں سے 1470کلوگرام منشیات ہم نے پکڑی، تعلیمی اداروں سے 400 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ہماری کیپیسٹی کے ایشوز ہیں، اسکینرز کے ایشو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حوالے سے باضابطہ ایک ایکشن جاری ہے، اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں کو ڈرگ فری بنانے کیلئے اے این ایف اور آئی سی ٹی کیساتھ مل کر کام شروع کیا گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میرا سوال ابھی تک وہیں پر ہے۔ قادر پٹیل نے کہا کہ اتنی چوکیوں، اتنے ناکوں کے باوجود منشیات کیسے آرہی ہے؟
بریگیڈئیر عمران علی نے کہا کہ کورئیر کمپنیوں کیلئے وزارت کامرس کو کام کرنا ہے، ڈارک ویب ایک مسئلہ ہے، ہمیں ذریعے تعلیمی اداروں سے نوجوانوں کے ایک گینگ کا پتا چلا ہے کہ جو منشیات کے بیج لارہے تھے، ایک ہی گھر میں یہ منشیات اگا کر وہیں سپلائی اور پارٹیاں کرتے تھے، ہم نے 7ارب کے قریب منشیات فروشوں کے اثاثے منجمد کئے ہیں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ آپ اچھا کام کررہے ہوں گے ہمیں تفصیلات دیں۔
حاجی جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ جب پریشر بڑھتا ہے تو کارروائیاں دکھانے کے لیے کچھ بے گناہ لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے، میں ثبوت پیش کروں گا اگلے اجلاس میں۔
بریگیڈئیر عمران علی نے کہا کہ 4008 کالجوں میں ہم نے منشیات کے خاتمے کی مہم چلائی ہے، ہم لوگ 7ری ہیب سینٹرز چلا رہے ہیں، اسلام آباد میں جو ری ہیب سینٹر چل رہے ہیں وہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔
چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ری ہیب سینٹرز وزارت صحت کے تحت آتے ہیں، اگر ہم کرنا چاہیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں، ادارے اب پبلک کا ساتھ نہیں دیتے، جس بچے کے والد منشیست فروشوں سے لڑتے ہوئے مرگیا اس کا بچہ آج مزدوری کررہا ہے، یونیورسٹیوں میں بچیاں منشیات استعمال کر رہی ہیں، اے این ایف اگر ایک مہینہ دل لگا کر کام شروع کردیں تو اس ملک سے منشیات ختم ہوسکتی ہے یہ ہماری آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سوشل میڈیا پر دیگر ممالک کی سمیں بیچی جارہی ہیں یہی سمز منشیات فروش استعمال کرتے ہیں۔
دوران اجلاس شرمیلا فاروقی ںے کہا کہ میں بل میں چاہتی ہوں اسلام آباد میں جہیز کو مکمل ختم کیا جائے، آئی سی ٹی والے جہیز کو قانونی شکل دینے کی بات کررہے ہیں، آئی سی ٹی والے کہہ رہے ہیں جہیز کو انسان کی سالانہ انکم کے ساتھ مشروط کردیا جائے، میں کہہ رہی ہوں جہیز لینے اور دینے کو جرم قرار دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بریگیڈئیر عمران علی نے یونیورسٹیوں میں کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں تعلیمی اداروں میں منشیات اے این ایف ری ہیب رہی ہے کر کام
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔