پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس (پی اے سی ) کمیٹی کے ممبر ثناء اللہ مستی خیل نے کہا ہے کہ پارٹی نے تمام کمیٹیوں کی رکنیت سےمستعفی ہونے کا اعلان کیاہے۔
اعلان کرنے کے بعد ثناء اللہ مستی خیل کمیٹی روم چھوڑکرچلے گئے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ ممبران کو پارٹی کے اس فیصلے کا میسج پہنچ گیا ہے، کچھ کونہیں پہنچا۔
سیکریٹری کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین جنید اکبرخان پی اے سی اجلاس میں نہیں آرہے، ممبران فیصلہ کرلیں کون پی اے سی کو چیئرکرے گا۔
کمیٹی ممبران نے پی اے سی اجلاس کی صدارت کیلئے نوید قمرکونامزد کردیا، سید نوید قمرنے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے آج کے اجلاس کی صدارت سنبھال لی۔
تحریک انصاف تمام ممبران نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں موجود نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پبلک اکاؤنٹس پی اے سی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔