ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کے 3 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کی ہدایت پر تفتان سرکل نے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں محمد نواز، محمد خان اور سید محمد شامل ہیں جنہیں تفتان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کا تعلق چاغی اور نوشکی سے بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایف آئی اے کے نام پر جعلی ایف آئی آرز بھیجنے کا انکشاف
ایف آئی اے حکام نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 1350 ملین سے زائد ایرانی ریال، 8 لاکھ روپے سے زائد پاکستانی کرنسی، 180 امریکی ڈالر اور بنگلہ دیشی ٹکہ برآمد کر لیا۔ اس کے علاوہ 3 اے ٹی ایم کارڈز، 5 پاکستانی پاسپورٹس اور 12 رجسٹرز بھی ضبط کر لیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث تھے جبکہ وہ برآمد ہونے والی بھاری رقم کے حوالے سے حکام کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی اے تفتان سرکل حوالہ ہنڈی نیٹ ورک گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے تفتان سرکل حوالہ ہنڈی نیٹ ورک گرفتاری حوالہ ہنڈی ایف آئی اے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔