Express News:
2026-07-24@12:18:02 GMT

عوام کی کیوں نہیں سنی جاتی؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

ایس ایس جی سی نے اوگرا سے پھر گیس کی قیمتوں میں اضافہ مانگ لیا اور لاہور میں منعقدہ اجلاس میں اوگرا نے کہا کہ گیس ٹیرف بڑھانا مجبوری ہے۔ فیصلہ کمپنیوں اور صارفین دونوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ کمپنیوں نے یہ اضافہ ٹرانسپورٹیشن کی مد میں مانگا ہے جو اوگرا سے 291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مانگا گیا ہے جب کہ سی این جی اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر انڈسٹریل صارفین نے اس کی شدید مخالفت کی مگر اوگرا نے پہلے ہی واضح کر دیا کہ اضافہ مجبوری ہے۔

 اوگرا نے ہمیشہ گیس کمپنیوں کے مطالبے ہی کی حمایت کی اور کمپنیوں سے نہیں کہا کہ وہ اپنے اخراجات میں کچھ کمی کر لیں اور پہلے سے ہی مہنگی گیس کے بوجھ تلے دبے ہوئے صارفین پر مزید بوجھ نہ ڈالیں۔

اوگرا ہو یا نیپرا ان اداروں نے بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ مانگنے والے سرکاری اداروں ہی کی حمایت کی اور صارفین کے مفاد کو سامنے رکھنے کی، صرف بات کی، کبھی صارفین کے مفاد کو سامنے رکھا ہی نہیں جاتا، اگرکبھی صارفین کا مفاد ان کے مدنظر ہو تو وہ عوام کی مجبوری بھی سامنے رکھ کر اضافے پر اضافہ مانگنے پر انکار کر سکتے ہیں۔ سوئی گیس کی قیمت میں اضافہ ضرور ہوگا تو صارفین کا مفاد کہاں چلا جاتا ہے صرف عوام کو دلاسا دے کر اضافہ کمپنیوں کو ہی دیا جانا ہوتا ہے۔

دوران سماعت تمام صارفین گیس نے اضافے کی شدید مخالفت کی اور سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ کا کہنا تھا گیس کمپنیاں اپنے اخراجات کم کریں مگر وہ ایسا کرنے کی بجائے ہمیشہ سارا بوجھ صارفین پر ڈالتی رہی ہیں۔

پہلے 271 روپے اضافہ مانگا تھا اور اب 20 روپے ٹرانسپورٹیشن چارجز شامل کر کے قیمت مزید بڑھائی جا رہی ہے جس سے گیس مزید مہنگی ہوگی، جس کا اثر برا پڑے گا جب کہ ملک میں گیس وافر مقدار میں موجود ہے مگر صارفین کو گیس نہیں مل رہی جس کی وجہ سے گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور لوگ ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایل پی جی گیس مہنگی ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ۔اب اگر سوئی گیس بھی مہنگی ہو جائے گی تو لوگوں کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔اجلاس میں متاثر ہونے والے اداروں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ گیس کی قیمت بڑھانے کی بجائے کم کی جائے۔

اوگرا، نیپرا و دیگر آئے دن نرخ بڑھانے والے سرکاری اداروں کے یہ ڈرامے اور عوام دشمنی سالوں سے جاری ہے۔ یہ ادارے دکھاوے کی سماعتیں کرتے ہیں جہاں کبھی عوام کی نہیں سنی جاتی اور فیصلہ ہمیشہ صارفین کے خلاف ہی آتا ہے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی جیسے سرکاری ادارے تو یہ تکلف بھی نہیں کرتے اور من مانے طور پر ٹول و دیگر ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ جس طرح وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

عالمی سطح پر نرخ کم ہونے پر عوام کو ریلیف دینے پر کوئی وزیر خزانہ یقین ہی نہیں رکھتا اور لیوی بڑھا کر حکومت کو فائدہ پہنچانا ان کا حکومتی فرض ہے، کسی وزیر خزانہ نے کبھی عوام کی نہیں سنی بلکہ عوام پر بوجھ وزرائے خزانہ ہی بڑھواتے آئے ہیں۔ جن میں اکثر غیر منتخب لوگ ہی رہے ہیں جنھیں عوام کا کبھی احساس نہیں رہا۔ انھیں عوام کی بجائے آئی ایم ایف اور حکمرانوں کا مفاد ہی عزیز رہا ہے یہ بھی کبھی عوام کی نہیں سنتے صرف اپنی من مانیوں کے عادی رہے ہیں۔

سیاسی حکومتیں کہنے کو عوام کی ہوتی ہیں جو عوام ہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہیں مگر بجٹ میں کبھی عوام کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ موجودہ حکومت نے 3 سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ بجلی، گیس کی قیمت بڑھانے میں دیرنہیں کی جاتی کمی کے وقت بھی کمی نہیں کی جاتی کہ آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا اور قرض نہیں ملے گا۔

ملک میں وافر مقدار میں گیس موجود ہے اور بجلی بھی مگر سیاسی حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کو جس طرح نوازا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی حکومتیں عوام کو نہیں بلکہ ارکان اسمبلی و سینیٹ، ججز، بیوروکریٹس ہی کو نوازتی آئی ہیں کیونکہ ان سے حکمرانوں نے فائدے لینے ہوتے ہیں جب کہ انھیں عوام کے پاس پانچ سال بعد جانا ہوتا ہے اور عوام انھیں ووٹ نہ بھی دیں یہ جیت ہی جاتے ہیں اور اقتدار میں آ جاتے ہیں۔

ماضی میں گیس کمپنیوں سے عوام کو شکایات کم اور بجلی کی زیادہ ہوتی تھیں مگر گیس کمپنیاں عوام کو لوٹنے، من مانیوں میں سب سے آگے ہیں جنھوں نے تحریک انصاف حکومت میں کروڑوں کے اضافی بل عوام سے جبراً وصول کیے تھے جو وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود واپس نہیں کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گیس کی قیمت کبھی عوام عوام کی عوام کو ہے اور

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ