عوام کی کیوں نہیں سنی جاتی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ایس ایس جی سی نے اوگرا سے پھر گیس کی قیمتوں میں اضافہ مانگ لیا اور لاہور میں منعقدہ اجلاس میں اوگرا نے کہا کہ گیس ٹیرف بڑھانا مجبوری ہے۔ فیصلہ کمپنیوں اور صارفین دونوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ کمپنیوں نے یہ اضافہ ٹرانسپورٹیشن کی مد میں مانگا ہے جو اوگرا سے 291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مانگا گیا ہے جب کہ سی این جی اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر انڈسٹریل صارفین نے اس کی شدید مخالفت کی مگر اوگرا نے پہلے ہی واضح کر دیا کہ اضافہ مجبوری ہے۔
اوگرا نے ہمیشہ گیس کمپنیوں کے مطالبے ہی کی حمایت کی اور کمپنیوں سے نہیں کہا کہ وہ اپنے اخراجات میں کچھ کمی کر لیں اور پہلے سے ہی مہنگی گیس کے بوجھ تلے دبے ہوئے صارفین پر مزید بوجھ نہ ڈالیں۔
اوگرا ہو یا نیپرا ان اداروں نے بجلی و گیس کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ مانگنے والے سرکاری اداروں ہی کی حمایت کی اور صارفین کے مفاد کو سامنے رکھنے کی، صرف بات کی، کبھی صارفین کے مفاد کو سامنے رکھا ہی نہیں جاتا، اگرکبھی صارفین کا مفاد ان کے مدنظر ہو تو وہ عوام کی مجبوری بھی سامنے رکھ کر اضافے پر اضافہ مانگنے پر انکار کر سکتے ہیں۔ سوئی گیس کی قیمت میں اضافہ ضرور ہوگا تو صارفین کا مفاد کہاں چلا جاتا ہے صرف عوام کو دلاسا دے کر اضافہ کمپنیوں کو ہی دیا جانا ہوتا ہے۔
دوران سماعت تمام صارفین گیس نے اضافے کی شدید مخالفت کی اور سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ کا کہنا تھا گیس کمپنیاں اپنے اخراجات کم کریں مگر وہ ایسا کرنے کی بجائے ہمیشہ سارا بوجھ صارفین پر ڈالتی رہی ہیں۔
پہلے 271 روپے اضافہ مانگا تھا اور اب 20 روپے ٹرانسپورٹیشن چارجز شامل کر کے قیمت مزید بڑھائی جا رہی ہے جس سے گیس مزید مہنگی ہوگی، جس کا اثر برا پڑے گا جب کہ ملک میں گیس وافر مقدار میں موجود ہے مگر صارفین کو گیس نہیں مل رہی جس کی وجہ سے گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور لوگ ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایل پی جی گیس مہنگی ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ۔اب اگر سوئی گیس بھی مہنگی ہو جائے گی تو لوگوں کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔اجلاس میں متاثر ہونے والے اداروں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ گیس کی قیمت بڑھانے کی بجائے کم کی جائے۔
اوگرا، نیپرا و دیگر آئے دن نرخ بڑھانے والے سرکاری اداروں کے یہ ڈرامے اور عوام دشمنی سالوں سے جاری ہے۔ یہ ادارے دکھاوے کی سماعتیں کرتے ہیں جہاں کبھی عوام کی نہیں سنی جاتی اور فیصلہ ہمیشہ صارفین کے خلاف ہی آتا ہے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی جیسے سرکاری ادارے تو یہ تکلف بھی نہیں کرتے اور من مانے طور پر ٹول و دیگر ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ جس طرح وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔
عالمی سطح پر نرخ کم ہونے پر عوام کو ریلیف دینے پر کوئی وزیر خزانہ یقین ہی نہیں رکھتا اور لیوی بڑھا کر حکومت کو فائدہ پہنچانا ان کا حکومتی فرض ہے، کسی وزیر خزانہ نے کبھی عوام کی نہیں سنی بلکہ عوام پر بوجھ وزرائے خزانہ ہی بڑھواتے آئے ہیں۔ جن میں اکثر غیر منتخب لوگ ہی رہے ہیں جنھیں عوام کا کبھی احساس نہیں رہا۔ انھیں عوام کی بجائے آئی ایم ایف اور حکمرانوں کا مفاد ہی عزیز رہا ہے یہ بھی کبھی عوام کی نہیں سنتے صرف اپنی من مانیوں کے عادی رہے ہیں۔
سیاسی حکومتیں کہنے کو عوام کی ہوتی ہیں جو عوام ہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہیں مگر بجٹ میں کبھی عوام کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ موجودہ حکومت نے 3 سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ بجلی، گیس کی قیمت بڑھانے میں دیرنہیں کی جاتی کمی کے وقت بھی کمی نہیں کی جاتی کہ آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا اور قرض نہیں ملے گا۔
ملک میں وافر مقدار میں گیس موجود ہے اور بجلی بھی مگر سیاسی حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کو جس طرح نوازا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی حکومتیں عوام کو نہیں بلکہ ارکان اسمبلی و سینیٹ، ججز، بیوروکریٹس ہی کو نوازتی آئی ہیں کیونکہ ان سے حکمرانوں نے فائدے لینے ہوتے ہیں جب کہ انھیں عوام کے پاس پانچ سال بعد جانا ہوتا ہے اور عوام انھیں ووٹ نہ بھی دیں یہ جیت ہی جاتے ہیں اور اقتدار میں آ جاتے ہیں۔
ماضی میں گیس کمپنیوں سے عوام کو شکایات کم اور بجلی کی زیادہ ہوتی تھیں مگر گیس کمپنیاں عوام کو لوٹنے، من مانیوں میں سب سے آگے ہیں جنھوں نے تحریک انصاف حکومت میں کروڑوں کے اضافی بل عوام سے جبراً وصول کیے تھے جو وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود واپس نہیں کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیس کی قیمت کبھی عوام عوام کی عوام کو ہے اور
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔