یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کیلیے 30.216 ارب کا پیکج منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل کو احسن انداز میں آگے بڑھانے کیلیے یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کیلیے 30.216ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔
اس میں سے 25 ارب روپے ملازمین کی برطرفی کیلیے بطورگولڈن ہینڈ شیک جبکہ بقیہ 5 ارب روپے واجبات، تنخواہوں اور عارضی طور پر برقرار 832 ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں بھی ایک سال کے اندر فارغ کر دیا جائے گا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں وزرائے خوراک، تجارت،توانائی، معاون خصوصی صنعت و پیداواراوردیگرحکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ اورکارپوریشن کی منظم بندش کے لیے فنڈنگ پلان کی منظوری دی گئی۔کمیٹی نے ای سی سی نے ملازمین کے واجبات، گریجویٹی اور مراعات کی ادائیگی یقینی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یوٹیلٹی سٹورز کے اثاثے اور جائیدادیں رواں مالی سال فروخت کی جائیں گی،فروخت سے حاصل رقم بندش کے اخراجات پورے کرنے میں استعمال ہوگی۔اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کو مالی ضروریات مزید کم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بندش کے عمل کو شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مالی نظم و ضبط پر پرعزم ہے۔
حکومت کے اس عمل کے ساتھ ہی نصف صدی پرانے اس ادارے پر پردہ گر گیا ہے جو ملک بھر میں غریب عوام کو سبسڈی پر اشیائے خوردونوش فراہم کرتا رہا ہے۔
1971 میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں قائم ہونے والا یہ ادارہ 5,600 آؤٹ لیٹس کے ذریعے عام شہریوں کو بنیادی اشیائے ضرورت رعایتی نرخوں پر مہیا کرتا اور قیمتوں کو متوازن رکھنے میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تاہم برسوں کی بدانتظامی اور نااہل افراد کی تقرریوں کے باعث ادارہ خسارے میں چلا گیا اور بالآخر حکومت نے بغیر کسی کو جوابدہ ٹھہرائے اس کے دروازے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں یوٹیلٹی سٹورز کا نیٹ ورک 1,023 سے بڑھا کر 5,557 سٹورز اور عملہ 3,892 سے بڑھا کر 12,749 تک کر دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت نے سالانہ 2 ارب روپے کے نقصان سے بچنے کے لیے ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزارت خزانہ نے وضاحت دی کہ یہ اقدام قومی خزانے پر یو ایس سی کے مالی بوجھ کو ختم کرنے اور ملازمین کو واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ان پر سماجی و معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ایس سی کی 21 جائیدادوں کی قیمت 10.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملازمین کی ارب روپے بندش کے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔