دنیا بھر میں چینی ہتھیاروں کی بڑھتی مانگ کا راز کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
دنیا کی توجہ عموماً امریکا اور یورپ کے ہتھیاروں پر مرکوز رہتی ہے، لیکن پسِ پردہ بیجنگ ایک ایسا اسلحہ جاتی نیٹ ورک بنا رہا ہے جو قیمت، رسائی اور شراکت داری کے اصولوں پر استوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فضا میں بھارتی غرور کی شکست: چینی ہتھیاروں کی دھاک اور بھارتی کوتاہیاں بے نقاب
خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے یہ نیٹ ورک نہایت پرکشش ثابت ہورہا ہے۔
عالمی اعداد و شمار اور چین کی پوزیشناسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے 2020 تا 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا عالمی اسلحہ منڈی میں 43 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا سپلائر ہے۔
جبکہ فرانس 9.
چین بظاہر 5.9 فیصد شیئر کے ساتھ محدود نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے دفاعی شعبے کو درآمدات پر انحصار سے آزاد کرچکا ہے۔
پاکستان اور چین کی گہری شراکت داریگزشتہ 5 برسوں میں چین نے 44 ممالک کو بڑے ہتھیار فراہم کیے، جن میں سب سے زیادہ پاکستان کو۔ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں سے لے کر ایئر ڈیفنس سسٹمز، آبدوزوں اور ڈرونز تک، چین کی بیشتر برآمدات پاکستان کو جاتی ہیں۔
2024 میں پاکستان کی 81 فیصد دفاعی درآمدات چین سے ہوئیں، جو اس رشتے کو محض خرید و فروخت سے بڑھا کر مشترکہ پیداوار اور فوجی تعاون کی سطح پر لے آتا ہے۔
دیگر ممالک اور خطےپاکستان کے علاوہ سربیا اور تھائی لینڈ اہم خریدار ہیں۔ سربیا نے ایف کے-3 ایئر ڈیفنس سسٹم اور ڈرونز خریدے، جبکہ تھائی لینڈ نے ٹینک اور بحری اثاثے حاصل کیے۔
بنگلہ دیش، میانمار، نائیجیریا، الجزائر، ایران، عمان، سعودی عرب، وینزویلا اور بولیویا بھی مختلف سطح پر چینی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔
اس طرح بیجنگ نے تقریباً ہر براعظم میں اپنی موجودگی درج کرالی ہے۔
افریقہ اور ایشیا میں بڑھتا اثرافریقہ میں چین 18 فیصد سپلائی کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ مغربی افریقہ میں روس کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
ایشیا میں چین 14 فیصد کے ساتھ تیسرا بڑا سپلائر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کئی ایشیائی ممالک مغرب کی ’چین کے خطرے‘ کی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے بیجنگ سے جدید ہتھیار خرید رہے ہیں۔
ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیارچینی ڈرونز، خصوصاً ونگ لونگ اور سی ایچ سیریز، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔
تاہم چین کی فہرست صرف ڈرونز تک محدود نہیں بلکہ جدید لڑاکا طیاروں، ٹینکوں، آبدوزوں، فریگیٹس اور میزائل سسٹمز تک پھیلی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی سائنسدانوں پر امریکا میں ’ایگروٹیررازم ہتھیار‘ اسمگل کا الزام، کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟
اس لحاظ سے امریکا اور روس کے بعد صرف چین ہی ایسا ملک ہے جو جنگی ہتھیاروں کی مکمل رینج فراہم کر سکتا ہے۔
کم قیمت، تیز تر فراہمی اور سیاسی شرائط سے آزادیچین کے ہتھیار مغربی متبادلات کے مقابلے میں سستے اور جلد دستیاب ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے ساتھ کوئی سخت سیاسی شرائط یا استعمال کی پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں۔
ایسے ممالک جو مغربی دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں، وہ چین کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ساتھ ہی بیجنگ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار کے معاہدوں پر بھی آمادہ رہتا ہے۔
چیلنجز اور رکاوٹیںاگرچہ چین کی پیش رفت نمایاں ہے، لیکن کچھ مسائل برقرار ہیں۔ اس کے ہتھیاروں نے بڑے جنگی میدانوں میں خود کو پرکھا نہیں، مغربی ممالک ان کی نیٹو نظام کے ساتھ ہم آہنگی محدود رکھتے ہیں، اور سپلائی چین میں بھی رکاوٹیں دیکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت کشیدگی: عالمی سطح پر چینی جنگی ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ
اس کے علاوہ معیار اور اسپیئر پارٹس کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہچین جلد امریکا کو عالمی اسلحہ برآمدات میں پیچھے نہیں چھوڑ سکے گا، لیکن بیجنگ کی حکمتِ عملی ہی کچھ اور ہے۔
وہ سستے، قابلِ اعتماد اور سیاسی طور پر غیر جانبدار دفاعی حل پیش کر کے ایسے ممالک کو اپنی طرف مائل کر رہا ہے جو خود مختاری کو مغربی شرائط پر فوقیت دیتے ہیں۔
cin
اس طرح چین نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہا ہے بلکہ ریاستوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار بھی دے رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افریقہ امریکا بھارت پاکستان چینی ہتھیار ڈرون روس فرانس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افریقہ امریکا بھارت پاکستان چینی ہتھیار فیصد کے ساتھ ہتھیاروں کی میں چین چین کی رہا ہے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔