چین نے سہ فریقی ایٹمی مذاکرات کو "غیر حقیقت پسندانہ" قرار دیتے ہوئے امریکا اور روس کے ساتھ بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں چین بھی ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق بات چیت میں شامل ہو، تاہم بیجنگ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اور روس دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی ہتھیاروں کے مالک ہیں اور انہی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمی کریں۔ چین اپنی ایٹمی طاقت صرف قومی سلامتی کے لیے کم سے کم سطح پر رکھتا ہے اور کسی دوڑ کا حصہ نہیں ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے امریکا میں دیے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور انہیں "منافق" قرار دیا۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ کبھی اپنے ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑے گا اور یہ اس کی "ریاستی عزت اور وقار" ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا اور روس دنیا کے تقریباً 90 فیصد ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں جبکہ اسٹاک ہوم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس 3 ہزار 700 اور روس کے پاس 4 ہزار 300 سے زائد وارہیڈز ہیں۔ چین کے پاس 500 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا اور روس

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم