بیٹی کی پرورش کے لیے اپنی انا قربان کی،سائرہ یوسف
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
کراچی (شوبز ڈیسک) معروف اداکارہ و ماڈل سائرہ یوسف نے کہا ہے کہ بیٹی نوریح کی پرورش کے دوران انہیں اپنی انا کو قربان کرنا پڑا۔
اداکارہ نے یہ بات صنم جنگ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی کے باوجود والدین کی مشترکہ ذمہ داری جسمانی اور ذہنی مضبوطی کا تقاضا کرتی ہے۔ اس تجربے نے انہیں اپنی ذات سے بالاتر ہوکر سوچنا سکھایا۔
A post shared by Syra Yousuf (@syrayousuf)
پروگرام میں ان سے ویلنٹائن ڈے کی وائرل تصویر پر بھی سوال ہوا جس میں وہ بیٹی نوریح، سابق شوہر شہروز سبزواری، صدف کنول کی بیٹی زہرا اور اپنی بھتیجی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں نظر آئیں۔ مداحوں نے اس رویے کو مثبت قرار دیا تھا۔ سائرہ نے کہا: “زہرا، نوریح کی بہن ہے، اور جب بات نوریح کی ہو تو میں خود سے متعلق نہیں سوچتی۔”
یاد رہے کہ سائرہ اور شہروز کی شادی 2012 میں ہوئی تھی، 2020 میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ بعدازاں شہروز نے صدف کنول سے شادی کی اور ان کے ہاں بیٹی زہرا پیدا ہوئی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔