عید میلاد النبیؐ پر کراچی میں بھاری ٹریفک کے داخلے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
ٹریفک پولیس نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر شہریوں کے تحفظ اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہلاکتوں پہ گہرا دکھ، 15 روز میں ڈمپرز پر کیمرے اور لائسنس نہ ہوئے تو سخت کارروائی ہوگی، وزیر اعلیٰ سندھ
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11 اور 12 ربیع الاول 1447 ہجری، یعنی 5 اور 6 ستمبر (جمعہ اور ہفتہ) کو شہر بھر میں کسی بھی قسم کی بھاری ٹریفک داخل نہیں ہو سکے گی۔
حکام کے مطابق ربیع الاول کی مناسبت سے کراچی میں مختلف مذہبی اجتماعات اور جلوس مرکزی و ذیلی شاہراہوں پر نکالے جائیں گے جن میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کریں گے۔
شہریوں کی سہولت اور ٹریفک پلان کو مؤثر بنانے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی میں ڈمپر کی ٹکر سے بہن بھائی جاں بحق، 7 ڈمپر نذر آتش
ٹریفک پولیس نے تمام ٹرانسپورٹرز، ڈمپر، واٹر ٹینکر اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو مراسلہ بھیج کر ہدایت دی ہے کہ وہ مکمل تعاون کریں اور بھاری ٹریفک روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹریفک پولیس ڈمپر کراچی ڈمپر کراچی ربیع الاول ہیوی ٹریفک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس کراچی ڈمپر ہیوی ٹریفک
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔