انسداد دہشت گری کراچی کی منتظم عدالت نے ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے میں رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر نوٹس جاری کردیئے۔

کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔

پراسیکیوٹر، ملزمان اور مدعی کے وکیل اور تفتیشی افسر پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ مدعی کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی کے وکیل موجود ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، دیکھنا ہے کہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان سے مچلکے لئے ہیں یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟

تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچلکے؟ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ضامن ملزمان کو 30 تاریخ  کو پیش کرے گا۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں  پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی۔

عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔

عدالت ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اس رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان اور ضامن کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تفتیشی افسر نے عدالت نے کہاں ہیں

پڑھیں:

بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان

---فائل فوٹو 

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں  جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔

خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔

ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔ 

خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا